حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم)

by Other Authors

Page 119 of 621

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 119

حیات احمد ۱۱۹ جلد دوم حصہ اوّل نے پٹیالہ سے جو سنور سے تین کوس کے فاصلہ پر ہے واپس آکر مجھ سے کہا کہ عبد اللہ ! اب آرہ جانے کا خیال چھوڑ دو۔قادیان میں ایک بزرگ نے اس دعوے سے کتاب لکھنی شروع کی ہے اور پھر اس کتاب کے دعوی کا اور اس پر دس ہزار روپیہ انعام کا ذکر کیا۔اور کہا کہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ شخص بڑا کامل ہے۔اگر تجھے زیارت کے لئے جانا ہے تو اس کے پاس جا۔چنانچہ اُسی وقت آرہ جانے کا خیال جاتا رہا اور قادیان روانہ ہو پڑا۔بلکہ جہاں تک مجھے یاد ہے اس بات کے سننے پر میرے دل میں کچھ ایسا ولولہ اٹھا کہ جس جگہ پر ماموں صاحب نے مجھ سے یہ ذکر کیا تھا وہیں سے سیدھا میں قادیان کی طرف روانہ ہو گیا۔گھر بھی نہیں گیا۔جب میں بٹالہ اسٹیشن پر گاڑی سے (جو ابھی شروع ہی ہوئی تھی ) اتر کر رات وہیں رہا اور علی اصبح پیدل چل کر قادیان پہنچا۔حضور اس وقت بیت الفکر میں تشریف رکھتے تھے۔میں نے بیت الفکر کے چھوٹے دروازہ پر جو بیت الذکر یعنی مسجد مبارک میں ہے دستک دی۔حضور نے دروازہ کھول دیا اور میں السلام علیکم عرض کر کے پاس بیٹھ گیا۔حضور کا چہرہ دیکھتے ہی بغیر اس کے کہ حضور میرے ساتھ کوئی بات کرتے میری دل میں حضور کی بے حد محبت پیدا ہوگئی۔اور حضور کا چہرہ مبارک نہایت ہی پیارا معلوم ہوا۔اُس وقت تک میں نے براہین احمدیہ یا اس کا اشتہار خود نہیں دیکھا۔یہاں آ کر بھی کوئی دلائل حضور علیہ السلام یا کسی اور سے نہیں سنے بلکہ میری ہدایت کا موجب صرف حضور کا چہرہ مبارک ہی ہوا حضور پر میرا اعتقاد اسی وقت پورا ہو گیا۔رفتہ رفتہ نہیں ہوا۔یہاں میں تین روز رہ کر واپس روانہ ہو گیا۔مگر بٹالے پہنچ کر میرا دل آگے جانے کو نہیں چاہتا تھا اس لئے پھر قادیان واپس آ گیا۔حضور نے فرمایا کہ کیوں واپس آگئے میں نے کہا حضور جانے کو دل نہیں چاہتا۔فرمایا اچھا اور رہو۔چنانچہ میں ہفتہ عشرہ اور رہا اور پھر واپس چلا گیا۔اس کے بعد میں اکثر حضور کی خدمت میں