حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 118
حیات احمد ۱۱۸ جلد دوم حصہ اول ہو چکی تھیں اور پٹیالہ میں انکا عام چرچا ہورہا تھا۔اور اس سلسلہ میں اُن کا تعلق حضرت اقدس سے کس طرح ہوا۔میں خود اُن کے ہی الفاظ میں بیان کر دیتا ہوں۔ان کے اس بیان سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ آپ ۱۸۸۲ء میں قادیان آئے۔اگر چہ ایک مرتبہ انہوں نے ایسا بھی بیان کیا تھا کہ وہ ۱۸۸۱ء میں آئے۔مگر جہاں تک واقعات سے تصدیق ہوتی ہے اُن کی آمد ۱۸۸۲ء ہی میں ہوئی بہر حال مولوی صاحب کا اپنا بیان حسب ذیل ہے:۔۱۸۸۲ء میں آپ کا حضرت مسیح موعود سے تعلق ارادت ہوا اس تعلق کی تفصیل مولوی عبداللہ صاحب یوں بیان کرتے ہیں۔دو مجھے بچپن سے ہی ایسے اہل اللہ کے ساتھ تعلق قائم کرنے کا شوق تھا جو متبع سنت اور خالص موحد ہوں۔میری اس تڑپ اور شوق کو دیکھ کر میرے ماموں مولوی محمد یوسف صاحب مرحوم نے مولوی عبد اللہ صاحب غزنوی کی تعریف کی۔اور کہا کہ امرتسر میں ایک شخص ہے جو متبع سنت ہے یہ سن کر میں ان کی زیارت کے لئے امرتسر پہنچا۔اور وہاں تین چار روز رہا اور مولوی صاحب موصوف کی بیعت کر کے واپس چلا گیا اس وقت ابھی میری عمر بچپن ہی کی تھی۔مولوی صاحب موصوف نے بیعت کے بعد مجھے دو وظیفے پڑھنے کے لئے ارشاد فرمایا۔ایک یہ کہ يَا حَيُّ يَا قَيُّومُ بِرَحْمَتِكَ اسْتَغِيتُ ہر وقت پڑھتے رہیں۔اور دوسرا یہ کہ صبح کی سنتوں کے بعد یعنی فرضوں سے پہلے اکتالیس بار سورۃ فاتحہ بالالتزام پڑھا کریں جس کی تاثیر کا میں نے مشاہدہ بھی کیا۔اس کے بعد ماموں صاحب موصوف نے فرمایا کہ ہندوستان کے ایک شہر آرہ میں ایک بزرگ ہیں جو یہاں تک متبع سنت ہیں کہ اس نے اتباع سنت نبوی میں اپنی مسجد کی چھت بھی کھجور ہی کی شاخوں کی بنائی ہوئی ہے۔ان کی زیارت کا مجھے بہت اشتیاق پیدا ہوا چنانچہ میں آرہ جانے کو تیار ہی تھا کہ ایک روز ماموں صاحب