حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 103
حیات احمد ۱۰۳ جلد دوم حصہ اوّل مخالف نے اس سے فائدہ اٹھا کر حضرت کو شہادت میں طلب کرا دیا۔مرزا سلطان احمد صاحب کے وکیل نے جب آپ سے دریافت کیا کہ آپ کیا بیان کریں گے تو آپ نے فرمایا کہ وہ اظہار کروں گا جو واقعی امر اور سچ ہے تب اس نے (وکیل نے ) کہا کہ پھر آپ کے کچہری جانے کی کیا ضرورت ہے میں جاتا ہوں تا مقدمہ سے دستبر دار ہو جاؤں حضرت فرماتے ہیں:۔کہ گو وہ مقدمہ میں نے اپنے ہاتھوں سے محض رعایت صدق کی وجہ سے آپ خراب کیا اور راست گوئی کو اِبْتِغَاءَ لِمَرْضَاتِ الله مقدم رکھ کر مالی نقصان پیچ سمجھا۔“ آئینہ کمالاتِ اسلام۔روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۳۰۰) قارئین کرام کو معلوم رہے کہ یہ وہی مکان ہے جو مسجد اقصیٰ کے پاس بنا ہوا ہے جس کا حصہ خدا کے فضل و کرم سے آج سلسلہ کی ملکیت ہے۔اسی طرح بعض دوسرے مقدمات میں بھی جب آپ شہادت کے لئے بلائے گئے تو آپ تشریف لے گئے انہی ایام میں آپ کو امرتسر ایک شہادت پر جانا پڑا ابھی آپ کے پاس کوئی سمن اور کسی قسم کی اطلاع خارجی طور پر نہ آئی تھی کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو بذریعہ وحی امرتسر جانے کی نسبت خبر دی اور یہ الہام آپ کو انگریزی میں ہوا تھا۔اس کے بعد ایک دن آپ کو ایک خط بنظر کشفی دکھایا گیا جو ایک شخص نے بھیجا ہے اس خط پر انگریزی زبان میں لکھا ہوا ہے آئی۔ایم۔کورلز اور عربی میں یہ لکھا ہے هَذَا شَاهِدٌ نَزَّاغ اس سے معلوم ہوا کہ آپ کو کسی مقدمہ کی شہادت کے متعلق کوئی خط آنے والا ہے چنانچہ اس کے موافق پادری رجب علی مہتم مطبع سفیر ہند کا خط آیا اور اس کے ساتھ ہی ایک سمن عدالت سے آیا جس سے معلوم ہوا کہ پادری رجب علی نے آپ کو ایک مقدمہ میں گواہ لکھایا ہے۔یہ مقدمہ منشی امام الدین کا تب براہین کے خلاف تھا۔چنانچہ حضرت صاحب فرماتے ہیں کہ :- مہتم مطبع سفیر ہند کے دل میں یہ یقین کامل یہ مرکوز تھا کہ اس عاجز کی شہادت جو ٹھیک ٹھیک اور مطابق واقعہ ہو گی باعث وثاقت وصداقت اور نیز با اعتبار قابل قدر ہونے کی وجہ سے فریق ثانی پر تباہی ڈالے گی اور اسی قیمت سے مہتم مذکور