حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم)

by Other Authors

Page 102 of 621

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 102

حیات احمد ۱۰۲ امرتسر کے ایک مقدمہ میں شہادت جلد دوم حصہ اول حضرت اقدس کو عدالتوں میں جانے سے بالطبع کراہت تھی اوائلِ شباب میں حضرت والد صاحب مرحوم کے ارشاد کی تعمیل میں اپنی جائیداد کے بعض مقدمات کی پیروی کے لئے آپ کو جانا پڑتا تھا۔میں تفصیل سے حیات النبی کے پہلے حصہ میں یہ امر بیان کر آیا ہوں کہ آپ کو بالطبع نفرت تھی مگر ایک سعادتمند اور فرمانبردار بیٹے کی حیثیت سے آپ اپنے جذبات کو کچل کر تعمیل کرتے تھے۔اور ان مقدمات میں کبھی اور کسی حال میں صداقت کو ہاتھ سے جانے نہیں دیا آپ نے مقدمات سے تنظر کے اظہار و ثبوت میں ایک مرتبہ مولوی ابوسعید محمد حسین بٹالوی کے خط کے جواب میں لکھا کہ :- اگر میں مقدمہ کرنے سے بالطبع متنفر نہ ہوتا تو میں والد صاحب کے انتقال کے بعد جو پندرہ سال کا عرصہ گزر گیا ہے آزادی سے مقدمات کیا کرتا۔“ ( آئینہ کمالات اسلام صفحه ۳۰۳۔روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۳۰۳) ان مقدمات کے سوا کبھی آپ نے بہ حیثیت مدعی کوئی مقدمہ نہیں کیا حالانکہ اس کے لئے بہت سے ایسے مواقع تھے البتہ آپ کو اگر کسی عدالت میں بطور گواہ طلب کیا گیا تو آپ شہادت کے ادا کرنے کے لئے بخوشی جاتے اس لئے کہ كِتُمَان شَهَادَتِ حَقَّہ کو آپ معصیت یقین کرتے تھے۔آپ کی راست بازی اور صداقت شعاری پر مخالفین کو بھی پورا بھروسہ تھا اور اکثر ایسا ہوا ہے کہ آپ کو ایسے مقدمات میں شہادت کے لئے جانا پڑا جہاں کسی نہ کسی رنگ میں اس شہادت کا اثر آپ پر پڑتا تھا خواہ مالی حیثیت سے یا کسی اور حیثیت سے۔مثلاً ایک مرتبہ مرزا سلطان احمد صاحب نے ایک افتادہ اراضی کے متعلق دعویٰ کیا جو حضرت صاحب کی تھی اور پنڈت شنکر داس نے مکان بنالیا تھا مرزا سلطان احمد صاحب نے دعویٰ کیا۔اور مسماری مکان کا دعوی تھا مگر تر تیب مقدمہ میں ایک امر خلاف واقعہ تھا جس کے ثبوت میں وہ مقدمہ ڈسمس ہوتا اور نہ صرف مرزا سلطان احمد صاحب کو بلکہ خود حضرت کو بھی نقصان پہنچتا کیونکہ حقوق مالکانہ اس زمین کے جاتے تھے۔فریق حملہ بعد میں اس کتاب کا نام حیات احمد رکھا گیا (ناشر)