حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 95
حیات احمد ۹۵ جلد دوم حصہ اول بلکہ آپ درود شریف کو بہت پڑھتے تھے ) قرآن مجید کی تلاوت و تدبر کے علاوہ آپ اسلام پر جو حملے آریوں یا عیسائیوں کی طرف سے کئے جاتے تھے ان کے جوابات لکھنے میں مصروف رہتے۔خصوصیت سے یہ سال آریوں سے جنگ میں گزرا اور اسی سلسلہ میں اس رو یا مبارکہ کی عملی تعبیر شروع ہوئی جو ۱۸۶۵ء میں آپ نے دیکھی تھی یعنی کتاب براہین احمدیہ کی تصنیف خدا تعالیٰ سے مکالمات مخاطبات کا سلسلہ بھی برابر جاری تھا خصوصاً حضرت والد صاحب قبلہ کی وفات کے بعد یہ سلسلہ بہت زور شور سے جاری ہو چکا تھا۔آپ کے رؤیا اور کشوف کا سلسلہ تو بہت پرانا ہے جوانی کے آغاز کے ساتھ ہی خدا تعالیٰ نے اپنے فضل کا مورد بنا دیا۔الہامات اور مخاطبات الہیہ کا شرف تاریخی حیثیت سے ۱۸۶۸ء سے ثابت ہے۔گو اس کا نمایاں ظہور ۱۸۷۶ء سمجھا جاتا ہے۔جب حضرت کے والد مرحوم کی وفات کی خبر اللہ تعالیٰ نے دی اور آپ کو اَلَيْسَ اللهُ بِكَافٍ عَبْدَہ کہہ کر تسلی دی۔یوماً فيوما ي فضل باری ترقی کرتا چلا گیا۔خدا تعالیٰ کے مکالمات و مخاطبات کا شرف بڑھتا گیا۔۱۸۶۸ء کے الہامات اور نشانات کا ذکر حضرت نے خود نزول مسیح کے صفحہ ۱۴۱ لغایت ۴۳ میں کیا ہے۔میں یہاں مختصر طور پر ان نشانات کا ذکر کر دیتا ہوں جن کا تعلق ۱۸۷۹ء سے ہے ہے۔ا روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحه ۵۱۹ تا ۵۲۱ ۲ حاشیہ۔حضرت اقدس نے مخاطبات و مکالمات کے شرف کا ۱۲۹۰ھ سے دعوی کیا ہے چنانچہ آپ نے دانیال نبی کی پیشگوئی ایک ہزار دو سو نوے دنوں کی تصریح میں یہ تحریر فرمایا ہے کہ یہ مسیح موعود کی خبر ہے۔جو آخری زمانے میں ظاہر ہونے والا تھا۔سو اس عاجز کے ظہور کا یہی وقت تھا کیونکہ میری کتاب براہین احمدیہ صرف چند سال بعد میرے مامور اور مبعوث ہونے کے چھپ کر شائع ہوئی اور یہ عجیب امر ہے اور میں اس کو خدا تعالیٰ کا ایک نشان سمجھتا ہوں کہ ٹھیک بارہ سو نوے ہجری میں خدا تعالیٰ کی طرف سے یہ عاجز شرف مکالمہ و مخاطبہ پا چکا تھا۔پھر سات سال بعد کتاب براہین احمدیہ جس میں میرا دعویٰ مسطور ہے تالیف ہو کر شائع کی گئی جیسا کہ میری