حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 96
حیات احمد ۹۶ جلد دوم حصہ اول نشانات اس سال کا سب سے بڑا نشان خود کتاب براہین احمدیہ کی طبع واشاعت کا کام ہے ۱۸۶۵-۶۴ء میں آپ نے رویا دیکھی اور اس کا ظہور ۱۸۷۹ء میں ہوا۔پھر کتاب کی طبع کے لئے ہر قسم کے مالی مشکلات تھیں اور مادی اسباب میسر نہ تھے مگر خدا تعالیٰ نے آپ کو اس کی اشاعت کے لئے مامور کر دیا۔اور اسی سال آپ کو یہ الہام ہوا کہ بالفعل نہیں میں اس کے متعلق تفصیل سے لکھ آیا ہوں یہاں مجھے کچھ بیان نہیں کرنا۔اس الہام شدید الکلمات (حضرت نے یہی نام رکھا ہے۔عرفانی) کی تاریخ اور شان نزول کے متعلق براہین احمدیہ حصہ سوم حاشیه در حاشیہ نمبر صفحه ۲۲۵ پر بحث ہے ایک خاص اہلی واقعہ اسی سلسلہ میں میں ایک خاص خاندانی واقعہ کا ذکر کئے بغیر نہیں رہ سکتا اگر چہ کہ اس کا وقوع کچھ عرصہ پیشتر ہو چکا تھا لیکن میں اسے اب تک بیان نہ کر سکا لیکن چونکہ وہ ۷۷-۱۸۷۹ء کے سالوں سے تعلق رکھتا ہے میں اُسے اِس موقعہ پر لکھ دیتا ہوں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بعض جدی شرکاء نے جو قادیان کی ملکیت میں شریک تھے قادیان میں اس ممتاز خاندان (یعنی حضرت مسیح موعود کے خاندان ) کے خلاف ایک خطرناک سازش کی تھی جس میں قادیان کے بعض ہندو، قریشی اور دوسرے زمیندار خاندان کی دوسری شاخ کے ساتھ شریک سازش تھے۔حضرت صاحب تو گوشہ نشین تھے اور دنیا کے دھندوں میں کوئی مداخلت نہ کرتے تھے بقیہ حاشیہ۔کتاب براہین احمدیہ کے سرورق پر یہ شعر لکھا ہوا ہے از بس کہ یہ مغفرت کا دکھاتی ہے راہ تاریخ بھی یا غفور نکلی واه واه (حقیقۃ الوحی صفحہ ۲۰۰،۱۹۹۔روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۲۰۷، ۲۰۸) روحانی خزائن جلد اصفحه ۲۵۰،۲۴۹۔