حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم)

by Other Authors

Page 94 of 621

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 94

حیات احمد ۹۴ جلد دوم حصہ اوّل شائع ہوا اور سفیر ہند امرتسر میں نکلا۔مختصر سا اشتہار رسالہ برادر ہند میں بھی دیا گیا تھا۔کتاب کی طبع کا کام ۱۸۷۹ء کے اخیر سے پہلے شروع نہ ہو سکا۔اخبارات میں اشتہارات کے علاوہ آپ نے خود اپنے ہاتھ سے لکھ کر متعدد خطوط مسلمان رؤساء اور امراء کو بھی بھیجے تا کہ ان پر اتمام حجت ہو۔یہ امر ایک حقیقت ہے۔کہ آپ نے یہ خطوط محض اتمام حجت ہی کے لئے لکھے تھے ورنہ آپ کی طبع عالی پر یہ امر بہت گراں تھا کہ کسی کو مدد کے لئے لکھیں اور یہ خدا تعالیٰ کے امر و ایما کے ماتحت تھا۔براہین کے متعلق خط و کتابت کا کام خود اپنے ہاتھ سے کرتے تھے اس وقت آپ کو ایسے وسائل میسر نہ تھے کہ کوئی اسٹاف رکھ کر کام کریں۔۳ دسمبر ۱۸۷۹ء کو آپ نے اعلان کر دیا تھا کہ کتاب جنوری ۱۸۸۰ء میں طبع ہو کر اسی مہینے یا فروری ۱۸۸۰ء میں شائع اور تقسیم ہو جائے گی۔اس طرح پر پہلی جلد کی ترتیب و تصنیف ۱۸۷۹ء میں ہو کر وہ مطبع میں جانے کے لئے صاف ہوتی رہی اور جنوری ۱۸۸۰ء میں اس کی کتابت وغیرہ ہو کر مطبع میں چلی گئی۔۱۸۷۹ء کے واقعات میں اور کوئی خاص امر قابل ذکر نہیں آپ کا طریق عمل عام طور پر یہی تھا آپ اپنے حجرہ میں رہتے اور مطالعہ و ذکر و شغل میں مصروف رہتے۔عوام سے بہت کم ملتے۔اپنی طبعی ضرورتوں اور نمازوں کے لئے باہر آتے۔ان ایام میں نمازیں آپ بڑی مسجد (مسجد اقصیٰ) میں پڑھا کرتے تھے عام طور پر آپ کی عادت شریف میں یہ تھا کہ امام دوسرا ہوتا تھا اور آپ مقتدی ہوتے تھے لیکن آپ خود نمازیں پڑھا بھی دیا کرتے تھے اس وقت ہمیشہ جب آپ کو امام نماز ہونے کا اتفاق ہوا جہری نمازوں میں چھوٹی سورتیں پڑھا کرتے تھے۔عصر کی نماز کے بعد بڑی مسجد میں آپ چہل قدمی فرماتے رہا کرتے اور عموماً سیر کو تشریف لے جایا کرتے اس سیر میں لالہ ملاوامل لالہ شرمپت رائے ساتھ ہوتے اور اگر کوئی اور شخص موجود ہوتا تو وہ بھی شریک ہو جاتا تھا۔یہ سیر علی العموم جانب ٹوٹر ہوتی تھی اور کبھی بٹالہ بسرائے وغیرہ کے طرف بھی۔طبعی ضروریات نمازوں اور ذکر و شغل ( یہ اذکار اشغال خلاف سنت طریقوں سے نہیں تھے