حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 66
حیات احمد पप جلد اوّل حصہ اوّل اخلاص اور ندامت سے ایام گزشتہ کی تلافی کے لئے قصبہ کے وسط میں مین برسر بازار ایک مسجد بنانے کا ارادہ کیا۔اس سے پہلے مرزا صاحب نے اس مسجد کے لینے کے لئے بے حد کوشش کی جو سکھوں کے ایام جبر میں چھینی گئی تھی اور دہرم سالہ بنائی گئی تھی۔مگر بعض نا اہل اور بدقسمت مسلمانوں نے ان کے خلاف شہادتیں دیں اور قانونی طور پر وہ اس کی بازیافتگی سے قاصر رہے۔اس پر انہوں نے ارادہ کیا کہ قصبہ کے وسط میں ایک مسجد تعمیر کریں۔اس مسجد کی اراضی حاصل کرنے میں انہیں بہت بڑی مالی قربانی کرنی پڑی۔یہ جگہ جہاں یہ مسجد بنی ہوئی ہے کاردار ان کی حویلی تھی۔اور نیلام ہونے پر اہالیانِ قصبہ نے قیمت میں مرزا صاحب کا خوب مقابلہ کیا۔اور معمولی قطعہ زمین جو اس وقت چند روپوں کی مالیت کا تھا۔وہ کئی سو گنا قیمت پر انہیں خریدنا پڑا۔مرزا صاحب نے یہ عزم کر لیا تھا اور خدا تعالیٰ کے حضور سچا عہد کیا تھا۔کہ اگر باقی ساری جائیداد بھی فروخت کرنی پڑے تو میں اس زمین کو لے کر مسجد بناؤں گا۔اللہ تعالیٰ نے اُن کے اس اخلاص کو ضائع نہ فرمایا، زمین انہیں مل گئی۔اور مسجد کی تعمیر شروع ہوئی چونکہ یہ مسجد بطور جامع مسجد کے بنائی جا رہی تھی۔وہ گاؤں کی بعض دوسری مساجد سے بہت بڑی تھی اس وقت ایک شخص نے کہا۔اتنی بڑی مسجد کی کیا ضرورت تھی۔کس نے نماز پڑھنی ہے۔اس مسجد میں چمگادڑ ہی رہا کریں گے۔مگر اس کو یہ معلوم نہ تھا کہ جس اخلاص کے ساتھ بانی نے اس مسجد کو بنانے کا ارادہ کیا اور مالی قربانی کی ہے۔خدا تعالیٰ اُسے ضائع نہیں کرے گا۔بلکہ اس مسجد کو دنیا میں قبولیت اور عزت کا شرف عطا فرمائے گا۔اس میں کچھ شک نہیں کہ دنیا میں بے شمار کار خیر ہوتے رہتے ہیں۔مگر یہ سچا اخلاص اور نیت سلیم ہی ہوتی ہے جو اللہ تعالیٰ کی قبولیت کو اپنی طرف جذب کرتی ہے۔ہزاروں مساجد دنیا میں بنائی جاتی ہیں۔لیکن وہ قبول بارگاہ ایزدی نہ ہونے سے ویرانہ ہو کر گندے استعمالوں میں آتی دیکھی گئی ہیں۔مگر اس اخلاص و ندامت سے بنائی ہوئی مسجد کو خدا تعالیٰ نے ایسا فخر قبولیت بخشا ہے کہ آج وہ روئے زمین کی نہایت ممتاز اور مقبول مساجد میں