حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل)

by Other Authors

Page 65 of 470

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 65

حیات احمد جلد اول حصہ اوّل تھا اور وہ خدا کے فضل اور رحمت سے کبھی مایوس نہ ہوتے تھے۔باایں اپنی کمزوریوں کو کمزوری یقین کرتے اور اس کا صاف لفظوں میں اعتراف کرتے تھے۔حضرت مرزا صاحب قبلہ کے متعلق یہ بات بھی یادرکھنے کے قابل ہے کہ جب حضرت دادی صاحبہ یعنی حضرت مسیح موعود کی والدہ صاحبہ کا انتقال ہو گیا تو آپ نے اندر جانا چھوڑ دیا۔ڈیوڑھی میں کھڑے ہو کر جو کچھ ہدایات دینی ہوتی تھیں دے دیتے اور باہر چلے آتے۔غذا ہمیشہ صرف ایک کھاتے تھے۔یعنی اگر مختلف کھانے آپ کے سامنے آتے تو آپ ایک ہی کھاتے تھے۔کتب خانہ کا خاص طور پر شوق تھا۔اور بہت سی کتابیں آپ کے کتب خانہ میں موجود تھیں۔مرزا صاحب کے حالات کو ختم کرنے سے پہلے یہ امر بھی ظاہر کر دینا ضروری ہے کہ جن ایام میں آپ بیگووال ریاست کپورتھلہ میں تھے۔تو مہاراجہ فتح سنگھ صاحب اہلو والیہ نے آپ کی ایک جا گیر مقرر کر دی تھی۔اور وہ چاہتے تھے کہ یہ خاندان ان کی ریاست میں رہے۔مگر مرزا غلام مرتضیٰ صاحب کو یہ پسند نہ تھا۔بلکہ اسی وجہ سے آپ اپنے والد صاحب مرحوم کا جنازہ رات کو قادیان لائے اور انہیں اپنے خاندانی قبرستان میں دفن کر دیا۔مرزا صاحب کا تکیہ کلام حضرت مرزا گل محمد صاحب کا تکیہ کلام ” ہے بات کہ نہیں تھا اور کثرت استعمال میں” ہے با کہ نہیں سمجھا جاتا تھا۔حضرت مرزا غلام مرتضی صاحب کی زندگی کا آخری شاندار دینی کام حضرت مرزا غلام مرتضی صاحب کو اپنی زندگی بھر دنیوی کاموں میں مبتلا رہنے کا افسوس اور ناکامی کا صدمہ تھا اور جیسا کہ اوپر بیان ہوا۔وہ اس گزشتہ ایام کی یاد سے ہمیشہ مغموم رہتے اور افسوس کا اظہار کرتے۔انہوں نے حصول دنیا کے لئے ساری عمر کی کوششوں کو بے ثمر پا کر بچے