حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 67
حیات احمد ۶۷ سے ہے۔اور مسجد اقصیٰ کہلاتی ہے۔جس کا اُس وقت یہ نقشہ تھا۔جلد اوّل حصہ اوّل دروازه قیر مرزا علام مریض صاحب غرض اس مسجد کی تعمیر شروع ہوئی ہے اور آپ نے وصیت کی کہ مسجد کے ایک گوشہ میں میری قبر ہو۔تا خدائے عزوجل کا نام میرے کان میں پڑتا رہے۔کیا عجب کہ یہی ذریعہ مغفرت ہو۔چنانچہ جس دن مسجد کی عمارت بہمہ وجوہ مکمل ہو گئی اور شائد فرش کی چند اینٹیں باقی تھیں کہ حضرت مرزا صاحب صرف چند روز بیمار رہ کر مرض پیچش سے فوت ہو گئے۔اور اس مسجد کے اسی گوشہ میں جہاں انہوں نے کھڑے ہو کر نشان کیا تھا۔دفن کئے گئے۔اللّهُمَّ ارْحَمْهُ وَادْخِلْهُ الْجَنَّةَ۔آمین۔قریباً اسنی یا پچاسی برس کی عمر پائی۔حضرت مرزا صاحب کی وفات کی قبل از وقت اطلاع حضرت مرزا غلام مرتضی صاحب کی وفات سے پہلے حضرت مرزا غلام احمد صاحب کو بذریعہ رؤیا اس واقعہ کی خبر دی گئی۔آپ اس وقت لا ہور میں تھے۔چنانچہ آپ لکھتے ہیں کہ ان کی (مرزا صاحب) یہ حسرت کی باتیں کہ میں نے کیوں دنیا کے لئے وقت عزیز کھو یا اب تک میرے دل پر دردناک اثر ڈال رہی ہیں اور میں جانتا ہوں کہ ہر شخص جو دنیا کا طالب ہو گا۔آخر اس حسرت کو ساتھ لے جائے گا۔میری عمر قریباً چونتیس پینتیس (غالباً ۳۶ یا ۳۷۔ایڈیٹر ) برس کی ہوگی۔جب حضرت والد صاحب کا