حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 64
حیات احمد ۶۴ جلد اول حصہ اوّل تأسف عمر گزشتہ پر ایک قسم کی تو بہ اور استغفار تھا۔اس بات کے بیان کرنے میں کوئی امر ہمیں مانع نہیں کہ ان کی زندگی جہاں ایک طرف نہایت نفع رساں اور مخیر واقع ہوئی تھی اور بہت سے صفات عالیہ سے حصہ رکھتے تھے۔ان امور کی طرف ان کی توجہ بہت ہی کم تھی جو قرب الہی کا موجب ہوتے ہیں۔یہاں تک کہ وہ صوم اور صلوۃ کے پابند نہ تھے یہ بھی یادرکھنا چاہئے کہ پابندی اور عملی حالت الگ ہے۔مگر شعار اسلام کی عظمت ان کے دل میں بے حد تھی اور وہ اپنی اس کمزوری کا ہمیشہ اعتراف کرتے تھے اکثر اپنا ایک شعر پڑھا کرتے تھے۔کردیم ناکردنی عمر اے وائے بما کہ ما چه کردیم ایک مرتبہ ایک بغدادی مولوی صاحب قادیان تشریف لائے۔حضرت مرزا صاحب (جو علماء کی قدر کرتے تھے ) نے ان کی بڑی عزت کی اور ہر طرح سے ان کی خاطر داری کی۔بغدادی مولوی صاحب نے کہا مرزا صاحب آپ نماز نہیں پڑھتے۔فرمایا قصور ہے۔مگر مولوی صاحب کو اس پر زیادہ ضد اور اصرار ہوا۔اور بار بار انہوں نے کہا کہ آپ نماز نہیں پڑھتے۔وہ ہر مرتبہ کہہ دیتے کہ قصور ہے۔آخر مولوی صاحب نے کہا۔کہ آپ نماز پڑھتے نہیں خدا تعالیٰ آپ کو دوزخ میں ڈال دے گا“ اس پر مرزا صاحب کو جوش آ گیا اور فرمایا کہ تم کو کیا معلوم ہے کہ وہ مجھے دوزخ میں ڈالے گا۔یا کہاں؟ میں اللہ تعالیٰ پر ایسا بدظن نہیں۔میری امید وسیع ہے۔اس نے فرمایا ہے۔لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَّحْمَةِ اللهِ (الزمر: ۵۴) تم مایوس ہو گے۔میں نہیں۔اتنی بے اعتقادی میں نہیں کرتا۔میں خدا تعالیٰ کے رحم و کرم پر بھروسہ کرتا ہوں یہ تمہاری اپنی بداعتقادی ہے تم کو خدا پر ایمان نہیں۔یہ کہہ کر اس مولوی کو نکلوا دیا۔جو کہتے ہیں بعد میں ایک لاہوری ساد ہو بچہ ثابت ہوا۔اس واقعہ کے بیان کرنے سے میرا یہ مقصد ہے۔کہ مرزا صاحب قبلہ کو خدا تعالیٰ پر کامل ایمان اور بھروسہ ا ترجمہ: میں تمام عمر ایسے کام کرتا رہا ہوں جو نہ کرنے چاہیں تھے مجھ پر افسوس کہ میں نے کیا کیا۔