حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 59
حیات احمد ۵۹ جلد اوّل حصہ اوّل اور میرے لئے اتنا قیمتی اور بیماری ایک ہی ہے۔فرمایا۔دو شیر سنگھ اور جولاہا ایک نہیں ہو سکتے“ ایسی دلیری اور جرات سے اس کو جواب دیا کہ مہاراجہ شیر سنگھ ناراض ہونے کی بجائے بہت ہی خوش ہوا اور اس زمانے کے رواج کے موافق عزت افزائی کے لئے کڑوں کی ایک جوڑی پیش کی۔حکام سے ملاقاتیں اور بے تکلف باتیں حکام سے جب ملتے خواہ وہ کتنے ہی بڑے پایہ کے ہوں بے تکلف ملتے تھے اور نہایت آزادی سے ان سے گفتگو کرتے تھے۔اور حکام بھی پوری توجہ سے ان کی باتوں کو سنتے تھے اور قدر کرتے تھے۔ہر چند اس سیرت کے متعلق یہ بات نہ ہو مگر میں اس امر کے اظہار پر مجبور ہوں کہ ایسے حکام اور ایسے وفادار رئیس ہی دراصل گورنمنٹ برطانیہ کے استحکام کا ایک ذریعہ تھے۔جب تک یورپین حکام کی یہ پولیسی رہی کہ وہ شرفاء اور رؤساء سے نہایت بے تکلفی اور ان کے عزت و مرتبہ کو مدنظر رکھ کر ملتے رہے۔رعایا کے یہ افراد جو ایک بڑے حصہ پر اپنا اثر ڈال سکتے تھے۔سرکار انگریزی کی محبت اور وفاداری میں بڑھتے گئے۔حکام کے لئے یہ پولیسی ہمیشہ رعایا کی تسخیر قلوب کے لئے بابرکت ثابت ہوگی۔الغرض حضرت مرزا غلام مرتضی صاحب اپنی ملاقاتوں میں نہایت بے تکلف اور صاف گو ہوتے تھے۔مخلوق کی نفع رسانی کا انہیں بہت خیال رہتا اور اس لئے سپارش کرنے میں بڑے دلیر تھے۔بڑے سے بڑے حاکم کو بھی بلا تکلف سپارش کر دیتے۔ایک حجام کی سپارش ایک مرتبہ ایک نائی نے جس کی معافی ضبط ہو گئی تھی حضرت مرزا صاحب سے کہا کہ آپ میری سپارش ایجرٹن صاحب سے کر دیں۔جو اس وقت فنانشل کمشنر تھے۔اور بعد میں لیفٹیننٹ گورنر پنجاب ہو گئے۔چنانچہ حضرت مرزا غلام مرتضی صاحب اسے ساتھ لے کر لاہور گئے۔شالا مار باغ میں جلسہ تھا۔جب جلسہ ہو چکا۔تو آپ نے مسٹر ا یجرٹن سے کہا کہ آپ اس شخص کی بانہہ پکڑ لیں۔