حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل)

by Other Authors

Page 58 of 470

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 58

حیات احمد ۵۸ جلد اوّل حصہ اوّل غرض مرزا غلام مرتضی صاحب ایک وفادار رئیس تھے اور یہ جذبہ ان میں ہر وقت موجود تھا۔مہاراجہ رنجیت سنگھ کے عہد میں بھی اس کا ظہور ہوا اور سرکار انگریزی کی حکومت میں بھی اس میں فرق نہ آیا بلکہ جیسا کہ واقعات سے میں نے اوپر دکھایا ہے ایسے وقت اور حالات میں جبکہ بہت سے لوگوں کے قدم اکھڑ گئے تھے۔اور بہت سے خاندان بے راہ ہو گئے تھے۔حضرت مرزا غلام مرتضی کی وفاداری اور دوستی غیر متزلزل تھی۔یہ استقلال اور عہد دوستی اور وفاداری بھی انسانی اعلیٰ صفات کے اجزاء ہیں۔اور اُن کے شجاعانہ کارناموں کے اظہار کے لئے وہی بیان کافی ہے۔جو او پر میں ہزارہ کے مفسد و اور کشمیر کی سرحد پر اُن کی خدمات کے تذکرہ کے متعلق کر آیا ہوں۔اخلاقی جرات بہت سے لوگ اخلاقی جرات اور قوت فیصلہ نہ ہونے کی وجہ سے نہ صرف خود تکلیف اٹھاتے ہیں بلکہ بعض اوقات دوسروں کے لئے بھی تکلیف کا موجب ہو جاتے ہیں۔جہاں حضرت مرزا صاحب میں شجاعت، مروت، عفو اور احسان کی قابل قدر خوبیاں تھیں۔وہاں آپ میں اخلاقی جرأت عام تھی۔اور اس کے ساتھ ہی آپ صادق اور راستباز مشہور تھے۔اگر چہ بعض وقت امر واقعہ کے اظہار نے آپ کو کسی رنگ میں نقصان پہنچایا ہومگر کہنے سے کبھی مضائقہ نہ کرتے تھے۔لوگ ان کی غیور طبیعت اور مستقل مزاجی کا نام ضد اور ہٹ رکھتے ہیں مگر دراصل یہ قصور فہم ہے۔مہاراجہ شیر سنگھ کی علالت ایک مرتبہ مہاراجہ شیر سنگھ صاحب کا ہندو ان کے چھنب میں شکار کے لئے تشریف لے گئے۔حضرت مرزا صاحب بھی ساتھ تھے مہاراجہ صاحب کے باز دار کو جو قوم کا جولاہا تھا ز کام کی بیماری ہو گئی اور کسی قدر شدید ہو گئی۔حضرت مرزا غلام مرتضی صاحب نے اس کو دو ڈھائی پیسے کا ایک نسخہ لکھ دیا اور وہ فوراً اچھا ہو گیا۔اس کے بعد ہی خود راجہ صاحب اسی بیماری سے بیمار ہو گئے اور حضرت مرزا صاحب کو علاج کے لئے کہا گیا۔حضرت مرزا صاحب نے تمیں چالیس روپیہ کا ایک نسخہ ان کے لئے تجویز کیا۔مہاراجہ صاحب نے کہا کہ یہ کیا بات ہے۔اس جولا ہے کے لئے دواڑھائی پیسے کا نسخہ