حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 60
حیات احمد جلد اوّل حصہ اوّل ایجرٹن صاحب نے ہر چند کہا کہ اس کا کیا مطلب ہے۔مگر آپ نے یہی فرمایا۔کہ نہیں اس کی بانہہ پکڑ لو۔آخر وہ ایسا کرنے پر مجبور ہوا کیونکہ اُن کی بات رڈ نہیں کی جاتی تھی۔جب انہوں نے ہاتھ پکڑ لیا تب کہا۔کہ ہمارے ملک میں دستور ہے۔کہ جس کی بانہہ یعنی ہاتھ پکڑتے ہیں پھر خواہ سر چلا جاوے تو اس کو چھوڑتے نہیں۔اب آپ نے اس کا ہاتھ پکڑا ہے تو اس کی لاج رکھنا۔اور یہ کہہ کر کہا۔کہ اس کی معافی ضبط ہو گئی ہے کیا معافیاں دے کر بھی ضبط کیا کرتے ہیں؟ بحال کر دو! ایجرٹن صاحب نے دوسرے دن اس کی مسل طلب کی اور معافی بحال کر دی۔جرمانہ بلاطلب مسل معاف ہو گیا ایسا ہی ایک موقعہ پر ڈیوس صاحب اس ضلع گورداسپور میں مہتم بندوبست تھے۔بٹالہ میں جہاں انارکلی واقعہ ہے ان کا عملہ کام کرتا تھا۔قادیان کا ایک برہمن جو محکمہ بندوبست میں معمولی ملازم تھا۔مرزا غلام قادر صاحب کے ساتھ جو مرزا غلام مرتضی صاحب کے بڑے بیٹے تھے گستاخانہ رنگ میں پیش آیا۔مرزا غلام قادر صاحب جو بڑے قوی ہیکل اور سپاہیانہ رنگ کے نوجوان تھے۔اور ابو الفضل کی طرح قلم اور سیف دونوں ایک وقت ان کے ہاتھ میں یکساں کام کرتی تھیں۔اس گستاخانہ لہجہ کو برداشت نہ کر سکے۔انہوں نے وہیں اس گستاخ زبان دراز کو سیدھا کر دیا۔معاملہ بڑھ گیا۔اور ڈیوس صاحب نے ان پر ایک سورو پیہ جرمانہ کر دیا۔مرز اغلام مرتضی صاحب امرتسر میں تھے۔وہ فورا ڈیوس صاحب کے پاس گئے اور ان کو اس واقعہ سے اطلاع دی۔انہوں نے جناب مرزا صاحب کی دلجوئی اور اس خاندان کے اعزاز کو قائم رکھنے کے لئے بلاطلب مسل جرمانہ معاف کر دیا۔مرزا صاحب خود داری کی قدر کرتے تھے۔اور سیلف ریسپکٹ کا ایک غیر معمولی نمونہ تھے۔مرزا غلام قادر مرحوم کی حمایت اس معاملہ میں انہوں نے محض اسی جذبہ کی قدر کے لئے کی۔والا وہ اپنی اولا د کو مؤدب اور فرض شناس بنانا چاہتے تھے۔