حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 438
حیات احمد ۴۳۸ جلد اول حصہ سوم وقت مجھے کسی چیز کی ضرورت ہوئی۔جو گھر سے لانی تھی میرے پاس ایک شخص بکریاں چرا رہا تھا میں نے اسے کہا کہ مجھے یہ چیز لا دو۔اس نے کہا کہ میاں بکریاں کون دیکھے گا۔میں نے کہا تم جاؤ میں ان کی حفاظت کروں گا اور چراؤں گا۔چنانچہ اس کے بعد میں نے اس 66 کی بکریوں کی نگرانی کی۔اور اس طرح خدا نے نبیوں کی سنت ہم سے پوری کرادی۔“ نہال میں جانا اور وہاں کے مشاغل میں نے کتاب کے دوسرے حصہ میں حضرت اقدس کی والدہ محترمہ رَحِمَهَا اللهُ عَلَيْهَا کا کسی قدر ذکر کیا ہے۔حضرت کے نہال موضع آئمہ ضلع ہوشیار پور میں تھے۔یہ ایک مغل خاندان وہاں آباد تھا۔جو گواپنی دولت اور تمول کے لحاظ سے ممتاز نہ تھا مگر شرافت اور نجابت کے لحاظ سے وہ اپنے اقران میں واجب الاحترام تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خاندان کو دونوں قسم کے امتیاز حاصل تھے وہ ایک حکمران خاندان تھا لیکن با وجود دنیوی حیثیت سے ممتاز ہونے کے اس خاندان نے آئمہ کے خاندان سے رشتہ ناطے کرنے ہی پسند کئے یہ ایک ایسا واقعہ ہے کہ جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے آبائی خاندان کی عظمت کو اور بھی بڑھا دیتا ہے کہ ان کا اخلاق کتنا اعلیٰ اور نقطہ نظر کتنا وسیع تھا کہ وہ اپنے عزیزوں اور رشتہ داروں کے ساتھ تعلقات دولت اور ثروت کے لحاظ سے نہیں کرتے تھے بلکہ انہیں اپنا عزیز اور جسم و جان سمجھتے تھے۔اُن کا اُسی طرح احترام کرتے تھے جس طرح اپنے خاندان کے کسی دوسرے ممبر کا۔یہ تعلقات دیرینہ چلے آتے تھے اور رشتہ داریوں کے لئے یہی خاندان مخصوص تھا۔اس خاندان کی لڑکیاں حضرت کے خاندان میں آیا کرتی تھیں اور یہ سلسلہ مرزا سلطان احمد صاحب کی پہلی شادی تک برابر چلا آیا۔اور سچ تو یہ ہے کہ وہ شریف خواتین فی الحقیقت اس خاندان کی عظمت کی اہل تھیں چنانچہ حضرت مالی چراغ بی بی صاحبہ رَحِمَهَا اللهُ عَلَيْها حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی والدہ صاحبہ کی فیاضی۔نیکی۔مہمان نوازی۔وسعت حوصلہ۔غریب پروری۔استغنا۔شجاعت۔جرأت مشہور ہے۔اور میں کسی قدر ذکر اس کتاب کے صفحہ ۴۰ پر موجودہ صفحہ ۲۱۸،۲۱۷