حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل)

by Other Authors

Page 439 of 470

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 439

حیات احمد ۴۳۹ جلد اول حصہ سوم کر آیا ہوں۔بچپن میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنی والدہ محترمہ کے ہمراہ اپنے ننہال میں بھی تشریف لے جاتے تھے۔آئمہ ایک چھوٹا سا قریہ ہے۔وہاں آپ چڑیاں پکڑا کرتے۔اور چونکہ سرکنڈا بھی بڑا تیز ہوتا ہے اگر چاقو نہ ملتا تو آپ اس سے ہی اُسے ذبح کر لیتے۔وہاں کے واقعات اور حالات میں اس سے زیادہ کچھ نہیں۔چڑیوں کا پکڑنا ایک بہت چھوٹا اور معمولی واقعہ ہے لیکن عظیم الشان ہونے والے آدمیوں کی سیرت میں چھوٹی سے چھوٹی بات بھی آگے چل کر بہت بڑا اثر رکھا کرتی ہے۔چنانچہ جب آپ خدا کے فضل و رحم سے مامور ہوئے اور خدا تعالیٰ کے کلام وحی مشرف ہونے لگے تو خدا تعالیٰ نے بعض کشوف میں آپ کو سفید پرندوں کا پکڑنا بھی دکھایا۔جو مغربی اقوام کے داخلِ اسلام ہونے کے متعلق ہے۔وہ چڑیاں پکڑنا ایک طرح پر پیش خیمہ تھا جیسے بعض انبیاء علیہم السلام میں بکریوں کا چرانا انسانی گلہ بانی کا پیش خیمہ ثابت ہوا۔غرض آپ کے بچپن کے حالات اور واقعات زندگی میں نہال میں اس واقعہ کا پتہ چلتا ہے۔خود حضرت نے یہ ذکر کیا تھا اور وہ لوگ جو آئمہ کے بڑے بوڑھے تھے اور جو اس عہد کے واقعات کے دیکھنے اور جاننے والے تھے اس کی شہادت دیتے تھے۔اور ایک بات جو متفق طور پر آپ کی زندگی میں یہاں اور وہاں پائی جاتی ہے وہ یہ کہ لڑکوں کے ساتھ مل کر کھیلنے کا آپ کو شوق اور عادت نہ تھی بلکہ الگ الگ رہا کرتے تھے۔والدہ صاحبہ کو آپ سے اور آپ کو والدہ صاحبہ سے بہت محبت تھی۔یوں تو ہر ماں کو اپنے بچے اور بچے کو ماں سے محبت ہوتی ہے مگر یہ محبت اپنے رنگ میں بے نظیر تھی۔حضرت اقدس کے دل پر اس محبت کا گہرا اثر تھا اور بار ہا دیکھا گیا کہ جب کبھی آپ والدہ صاحبہ کا ذکر کرتے تو آپ کی آنکھیں ڈبڈبا آتی تھیں اور آپ ایک قادرانہ ضبط سے اس اثر کو ظاہر نہ ہونے دیتے تھے۔آپ کی والدہ صاحبہ بھی سیف زبان سمجھی جاتی تھیں اور ان کی زبان ایسا اثر رکھتی تھی کہ بعض اوقات وہ قبل از وقت کوئی بات کہہ دیتی تھیں تو وہ ہو جاتی تھی۔چنانچہ کبھی کبھی جب بڑے مرزا صاحب (حضرت مرزا غلام مرتضی صاحب مرحوم ) کشمیر میں تھے۔تو آپ فرماتی تھیں کہ آج کشمیر سے کچھ آئے گا۔تو ضرور کوئی نہ کوئی قاصد وہاں سے تحائف وغیرہ لے کر