حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 437
حیات احمد ۴۳۷ اپنے ہم نشینوں کو ہدایت جلد اول حصہ سوم آپ کے پاس جو لوگ آیا کرتے تھے۔وہ چھوٹے ہوں یا بڑے ان کو ہمیشہ کوئی نہ کوئی نصیحت فرمایا کرتے۔میاں علی محمد مرحوم کہا کرتے تھے کہ یہاں ایک فاحشہ عورت رہتی تھی مجھے فرمایا کرتے کہ اگر وہاں کبھی گئے تو یہاں میرے پاس نہ آنا۔اور پاک زندگی بسر کرنے کی ہدایت فرماتے رہتے۔ہر قسم کی منہیات سے بچنے کی نصیحت کرتے تھے۔رات کے وقت فرمایا کرتے کہ وضو کر کے سو جایا کرو۔اور داہنی کروٹ پر سویا کرو۔اور یہ بھی فرماتے کہ دعا کیا کرو۔يَا خَبِیرُ أَخْبِرْنِی اور صبح اٹھ کر خواب پوچھتے اور تعبیر فرماتے۔اور جب کوئی ضرورت ہوتی تو فوراً اسے پورا کرتے تھے۔ایک مرتبه بالن (ہیزم سوختنی ) کے لئے میں نے عرض کیا ( بروایت میاں علی محمد صاحب ) تو آپ نے جھنڈو باغبان کو کہا کہ ان کو بالن دیدو۔اس نے مجھے دے دیا۔پیچھے عنایت بیگ آ گیا اور اس نے رکھوالیا۔میں واپس چلا آیا۔آپ نے مسکرا کر پوچھا کہ کیا دس دن کا گزارہ ہو جائے گا۔میں نے جب واقعہ بیان کیا تو آپ کا چہرہ سرخ ہو گیا اور اسی وقت جھنڈو کو بلایا اور بہت ناراض ہوئے کہ ایک غریب کو جب دیا گیا تھا تو کیوں چھین لیا گیا۔اب تم خود اٹھا کر اس کے گھر چھوڑ کر آؤ۔چنانچہ ایسا ہی ہوا۔آپ غرباء کا بہت خیال رکھتے تھے اور ان کے لئے ہر قسم کی قربانی کو آمادہ رہتے تھے۔بچپن کے بعض واقعات میں نے اسی سوانح کے دوسرے حصہ میں آپ کے شکار کا ذکر کیا ہے کہ آپ نے بندوق سے ایک مرتبہ ایک گل دم کا شکار کیا تھا۔اور یہ بھی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ آپ نے کبھی غلیل کا استعمال بھی کیا ہے۔میں اس کی وجہ بھی لکھ آیا ہوں۔حضرت اماں جان کی ایک روایت سے جو صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب نے سیرۃ المہدی کی جلد اول میں لکھی ہے۔معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے لاسا بنا کر بھی بعض جانوروں کا شکار کیا ہے۔چنانچہ فرمایا کہ:- ”ایک دفعہ میں بچپن میں گاؤں سے باہر ایک کنوئیں پر بیٹھا ہوالا سا بنارہا تھا کہ اس