حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 436
حیات احمد ۴۳۶ جلد اول حصہ سوم تب وہ اٹھنے لگا اور آپ ہنسے۔آپ دراصل یہ چاہتے تھے کہ جو کوئی آپ کے پاس رہے۔با قاعدہ نماز پڑھے اور تہجد میں بھی شریک ہونے کی عادت ڈالے۔نماز تہجد کے بعد آپ کا معمول تھا کہ چپ ہو کر بیٹھ جاتے۔مرزا اسماعیل بیگ کی عمر اس وقت بہت چھوٹی تھی۔وہ سمجھ بھی نہ سکتے تھے حقیقت یہ ہے کہ آپ ذکر الہی میں مشغول ہوتے۔(عرفانی ) اور فجر کی نماز کے لئے نائیوں کے گھر کی طرف سے جایا کرتے۔میاں جان محمد نماز پڑھایا کرتے۔فجر کی نماز کے بعد آ کر سو جایا کرتے تھے۔فجر کی نماز اول وقت پڑھا کرتے تھے۔حضرت مرزا غلام مرتضی صاحب کا استفسار مرزا اسماعیل بیگ کہتے ہیں کہ کبھی کبھی بڑے مرزا صاحب (حضرت مرزا غلام مرتضی صاحب مرحوم و مغفور ) مجھے بلا لیتے وہ آپ چار پائی پر پڑے رہتے تھے۔پاس دو کرسیاں پڑی رہتی تھیں مجھے کرسی پر بیٹھ جانے کے لئے فرماتے۔اور دریافت کرتے کہ سُنا تیرا مرزا کیا کرتا ہے؟ میں کہتا تھا کہ قرآن دیکھتے ہیں اور اس پر وہ کہتے کہ کبھی سانس بھی لیتا ہے۔(مطلب یہ تھا کہ قرآن مجید کی تلاوت سے فارغ بھی ہوتا ہے۔عرفانی ) پھر یہ پوچھتے کہ رات کو سوتا بھی ہے۔میں جواب دیتا کہ ہاں سوتے بھی ہیں اور اٹھ کر نماز بھی پڑھتے ہیں۔اس پر مرزا صاحب کہتے کہ اس نے سارے تعلقات چھوڑ دئے ہیں۔میں اور وں سے کام لیتا ہوں۔دوسرا بھائی کیسا لائق ہے۔وہ معذور ہے۔حضرت اقدس جب والد صاحب کی خدمت میں جاتے تو نظر نیچی ڈالکر چٹائی پر بیٹھ جاتے تھے۔آپ کے سامنے کرسی پر نہیں بیٹھتے تھے۔یہ آپ کی شبانہ روز زندگی کا ایک مختصر خاکہ ہے۔