حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 435
حیات احمد ۴۳۵ جلد اول حصہ سوم کبھی فرصت کے بعد پوچھ لیتے کہ تمہارا باپ کتنا عرصہ ہوا فوت ہو گیا ہے۔اور پھر تم کیا کرتے رہے۔میں بتایا کرتا کہ کڑی چلا گیا تھا اور بکریاں چرا تا تھا۔اور وہاں ایک مرتبہ مجھ پر ایک جانور نے جس کو میں کتا سمجھا حملہ کیا اور میں دریا میں چلا گیا اور اس طرح بچا۔لوگوں نے بتایا کہ وہ بھیڑ یا تھا۔پھر آپ اس واقعہ کو سن کر ہنستے اور فرماتے کہ تو بڑی قسمت والا تھا کہ بھیڑیئے کے منہ سے بچ گیا اور کبھی کبھی مجھ سے یہی کہانی سنتے رہتے۔“ کھانے کے وقت کا معمول حضرت کے کھانے کے وقت اپنی روٹیاں یتامی اور مساکین کو تقسیم کرنے کا معمول پہلے بیان ہو چکا ہے۔مرزا اسماعیل بیگ صاحب بھی اُسے دہراتے ہیں۔اور وہ کہتے ہیں کہ بعض اوقات ساری روٹیاں تقسیم کر دیتے تھے اور گھر سے اور نہیں منگواتے تھے۔آپ صرف شور با پی لیتے تھے۔کسی دن میں ضد کرتا کہ آپ نہیں کھاتے تو میں بھی نہیں کھاتا تب کچھ کھا لیتے۔تیسرے پہر کا بلی چنے منگواتے میں کبھی گھر سے لے آتا۔کبھی ایک پیسہ کے بازار سے، گریاں میں آپ کو دے دیتا اور ثابت دانے میں کھا لیتا۔بہت تاکید کرتے کہ تم بھی کھاؤ۔اور کبھی چائے بنواتے تو مصری ڈال کر پیتے تھے۔تہجد اور وضو کے وقت معمول سردیوں میں عام طور پر گرم پانی سے وضو کرتے تھے۔تہجد کے لئے کبھی میں خود جاگ پڑتا اور کبھی جگا لیتے تھے۔جگانے میں آپ کا معمول یہ تھا کہ ہلا کر جگایا کرتے تھے۔جمال بھی وہاں سویا کرتا تھا۔اور وہ اٹھا نہیں کرتا تھا۔تب آپ فرماتے کہ اس کے منہ پر پانی کے چھینٹے ما رو مگر جب وہ یہ کہتے ہوئے سنتا تو فوراً اٹھ بیٹھتا ایک روز وہ نہ اٹھا۔تو اس پر لوٹا ہی ڈالدیا۔