حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل)

by Other Authors

Page 416 of 470

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 416

حیات احمد ۴۱۶ جلد اول حصہ سوم منشی نبی بخش صاحب ہر طرح سے تیار ہو کر گئے آپ نے فرمایا تھا کہ تم جا کر کوشش کرو۔میں دعا کروں گا۔اور تم اس سے تنہا ملو۔لوگوں کے سامنے نہ ملنا اور نہ بحث کرنا۔اس طریق سے بھی بیچ پڑ جاتا ہے۔منشی نبی بخش صاحب کہتے تھے کہ میں نے آپ کی نصیحت اور ہدایت پر عمل کیا۔اور اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مولوی قدرت اللہ صاحب واپس اسلام میں آگئے اور اس سے حضرت کو بہت خوشی ہوئی۔قادیان میں بعض عیسائی مشنری قادیان میں بعض عیسائی مشنری پادری بیٹ مین وغیرہ آ جایا کرتے تھے مگر ان میں سے کبھی کوئی حضرت سے مذہبی گفتگو نہیں کرتا تھا۔بلکہ بازار میں وعظ وغیرہ کہہ کر اور آپ سے ملاقات کر بقیہ حاشیہ:۔اور یہ بھی مجھ کو ہرگز امید نہیں کہ کوئی دانش مند اس جستجو میں اپنے اوقات ضائع کرے کہ خدا کہاں رہتا ہے کس طرح بن بنانے والے کے خود بخود موجود ہے۔کس وجہ سے محیط عالم ہے کس طور پر بغیر توسط اسباب کے دیکھنا اور سننا اور بولنا اُس کا ہے۔کس حکمت سے بغیر مادہ اور بھومی کے ایجاد عالم کرتا ہے۔کیونکہ جب عقلمند اس کی صفات لا يُدْرَكُ پر ایمان لایا اور اس کی صفات کو احاطہ عقل اور نظر سے بلند تر یقین کیا تو پھر وہ کاوش کرنا انہی صفات میں جن کو پہلے مان چکا تھا جوفکر اور قیاس سے بالا تر ہے خلاف طریقہ عقلمندی اور دانشوری کے سمجھے گا۔خلاصہ یہ ہے کہ ہر دانا اور حکیم کو یہ ماننا پڑے گا کہ خدا اپنی ذات اور صفات میں بے انت ہے۔لیکن ہمارے مخاطبین یہ فرماتے ہیں کہ خدا اپنی صفت قدرت میں بے انت نہیں ہے۔نہ نیست سے ہست کر سکتا ہے۔نہ اب پیدا کرنے کی اس کو قوت ہے۔بلکہ بآواز بلند کہتے ہیں کہ بس ہم کو خدا کی قدرت کا سارا راز معلوم ہو گیا اور سب حقیقت خدا کی معلوم ہوگئی۔صرف حکم سے پیدا کرنا محض غلط ہے۔ایسا بڑا کام خدا سے کب ہو سکتا ہے یہ تو صرف اتنی بات نکلی کہ بہت سے ارواح مثل خدا کے قدیم سے چلے آتے ہیں۔انہی سے خدا کام لیتا ہے ہر چند سمجھایا گیا کہ آپ کے اس اعتقاد سے سارا کارخانہ توحید کا بگڑا جاتا ہے۔کیونکہ جب صفت قدرت کا آپ کو انت معلوم ہو گیا۔