حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل)

by Other Authors

Page 415 of 470

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 415

حیات احمد ۴۱۵ جلد اول حصہ سوم کر واپس لانا چاہیئے۔منشی نبی بخش صاحب کہتے تھے کہ میں نے عرض کیا کہ اگر ان سے مباحثہ کرنے میں کچھ سختی کرنی پڑے تو کیا کچھ سخت الفاظ بھی استعمال کر لیں۔آپ نے فرمایا کہ سختی کرنے سے بعض اوقات دل سخت ہو جاتا ہے۔اور پھر ایسے لوگوں کا واپس آنا مشکل ہو جاتا ہے۔اس لئے نرمی اور تالیف قلوب کا سلوک کرو۔مولوی ضدی طبع ہوتے ہیں۔اپنی ضد میں آ کر وہ حق اور ناحق کی پرواہ نہیں کرتے۔غرض مولوی قدرت اللہ کو واپس لانے کے لئے آپ نے بہت بڑی تاکید کی۔اور آپ کو اس کا بہت رنج تھا۔اور فرمایا کہ اسلام سے کسی کا مرتد ہو جانا یہ بہت بڑا امر ہے اس کو سرسری نہیں سمجھنا چاہیئے۔ہم کو تو دوسروں کو اسلام میں لانا چاہیئے۔اگر ہماری غفلت سے مسلمان مرتد ہو جائے تو ہم سب خدا تعالیٰ کے حضور اس کے لئے جواب دہ ہوں گے۔بقیہ حاشیہ: محدود ہیں۔وہ عالم الغیب ہے ہم جاہل اور بے خبر ہیں۔وہ کامل ہے اور ہم ناقص۔وہ غنی بالذات ہے اور ہم محتاج ہیں۔وہ سب حدود اور قیود سے منزہ اور ہم اپنے اپنے طبائع کے قیدوں اور بندوں میں اسیر ہیں۔پھر بھلا ہم کیا چیز ہو کر اور کون بن کر یہ بات زبان پر لاویں جو ہم انادی ہیں خدا کے شریک ہیں۔حالانکہ ہماری قدرت کا یہ نقشہ ہے جو اتنی طاقت نہیں جو اپنا ہی بول و براز ایک ساعت تک بند کر سکیں اور علم کا یہ اندازہ ہے جو اتنی خبر نہیں کہ اپنے ہی دل کا حال بتلا سکیں جو ایک لحظہ کے بعد اس میں کیا خیال اٹھے گا۔معاذ اللہ ممکن بالک الذات کو واجب حتی قیوم سے کیا نسبت اور ذرہ امکان کو آفتاب وجوب سے کیا مناسبت۔سُبحَانَ اللَّهِ رَبُّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ ہاں اگر یہ کہو کہ پر میشور بھی ایسا کچھ بہت بے خبر نہیں ہے تو شاید جیوں کے کچھ پاؤں جم جائیں۔صاحبو! خدا کے واسطے ذرا اتنا سمجھو کہ اگر ایک مالک ایسا نہیں۔وہ سب کا خالق ہو تو پھر سب کا سلسلہ ایک کی طرف کس طرح منتہی ہوگا۔اور خدا کس استحقاق سے اُن کا خدا کہلائے گا۔اور علاوہ اس کے کون عاقل اس بات کو مانے گا۔کہ خدا محتاج بالغیر ہے اور اوروں کے سہارے اور بھروسہ پر کام کرتا ہے اور اپنی ذات میں کامل نہیں۔مجھ کو یقین ہے کہ کوئی مہذب اور تعلیم یافتہ ایسا خیال نہیں کرے گا۔