حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل)

by Other Authors

Page 417 of 470

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 417

حیات احمد ۴۱۷ جلد اول حصہ سوم کے واپس چلے جاتے تھے۔میرزا سلطان احمد صاحب کو البتہ شوق پیدا ہو گیا تھا اور وہ بالتزام عیسائیوں کے رد میں مضامین لکھنے لگے تھے اور اگر موقع ملتا اور قادیان کوئی مشنری آ جاتا تو اس سے مباحثہ کر لیتے تھے۔غرض عیسائی مشنری قادیان میں بہت ہی کم آتے اگر آتے تو آپ سے سرسری ملاقات کر کے واپس چلے جاتے۔وہ اس بات سے مایوس تھے کہ قادیان میں کوئی عیسائی ہو جائے گا۔کشن سنگھ کے خیالات بدل دیئے پادری بیٹ مین صاحب کو بھائی کشن سنگھ کے متعلق علم تھا کہ یہ شاید عیسائی ہو جاوے گا لیکن جب اسے معلوم ہوا کہ وہ حضرت صاحب کے پاس آتا جاتا ہے۔تو اس نے کہہ دیا تھا کہ کشن سنگھ کے خیالات مرزا صاحب نے بگاڑ دیتے ہیں۔مطلب اس کا یہ تھا کہ اب عیسائیت کا جادوکشن سنگھ بقیہ حاشیہ:۔تو وہ بے انت ہی نہ رہی۔اور اس سے خدا بھی محدود ہو گیا۔کیونکہ صفات اس کی اس کی ذات سے الگ نہیں ہیں۔حالانکہ آپ کا اصول یہ تھا کہ خدا غیر محدود اور بے انت ہے۔اور نیز اگر خدا کواب پیدا کرنے کی کچھ طاقت نہیں تو سارا مدار خدائی کا پیدائش موجودہ پر رہا۔اور وہ پیدائش از روئے ان دس دلیلوں کے کہ ہم پہلے اسی رسالہ میں لکھ چکے ہیں۔ایک تعداد معین میں محصور اور محاط ہے جو بموجب تشریح ہمارے اعتراض کے کسی دن خاتمہ اس تعداد کا ہو جائے گا۔اور پر میشر آگے کو ہمیشہ کے لئے بریکار بیٹھا رہے گا۔لیکن اس اعتراض سے قطع نظر کر کے ایک ہمارا فساد جس سے خدا کی عظمت اور جلال یک لخت دور ہو جاتی ہے اور ایک سخت صدمہ اُس کی صفت خداوندی کو پہنچتا ہے یہ پیدا ہوا جو خدا کا ملک راجوں اور رئیسوں کے ملک کی طرح ایک حد اور شمار خاص میں محدود ہو گیا۔اور ثابت ہو گیا جو ایشور ہنود کا اپنی خدائی کی قدرت کو اس قدر معلوم سے آگے نہیں بڑھا سکتا اور تیلی کے بیل کی طرح ہمیشہ اُسی حد معین کے اندر اندر گھومتا ہے۔پس یہ صفات ہرگز اس خدائے بزرگ کے لائق نہیں ہیں۔جو اپنی ذات اور صفات میں بے انت ہے۔لیکن معلوم نہیں کہ ہمارے مخاطبین آریہ سماج والے کیوں ایسی بڑی بھاری غلطی پر جسے بیٹھے ہیں۔کیا ان کو حق جوئی کا مطلق خیال نہیں یا کچھ مادہ ہی ایسا ہے کہ ایسی موٹی غلطی کو بھی سمجھ نہیں سکتے ؟