حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل)

by Other Authors

Page 404 of 470

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 404

حیات احمد ۴۰۴ جلد اول حصہ سوم ایک شخص کے شاہ نام ساکن لیل (متصل دھار یوال ) حضرت کے پاس آتے تھے۔اور وہ آپ ہی کے پاس ٹھہرتے تھے۔ایک مرتبہ انہوں نے دیکھا کہ حضرت نے ان کو پوچھا کہ آپ کے وضو کے لئے گرم پانی لاؤں اور یہ کہہ کر آپ گرم پانی لے آئے۔اسی طرح دوسری ضروریات اور آسائش و آرام کے امور کے متعلق بھی پورا انصرام فرماتے تھے۔یہ سب کچھ اکرام ضیف اور محبت درویشاں کا نتیجہ تھا۔اسی طرح مولوی صاحب کہتے ہیں کہ ایک شخص کوڈے شاہ جولنگڑا تھا۔آپ کے پاس آ کر رہا۔اور اس نے کہا کہ گھوڑی ہو تو میں جاؤں۔حضرت نے اس کے لئے ایک گھوڑی خریدی اور اس کو سوار کر کے بھیج دیا۔اور گھوڑی اس کو دے دی۔عام طور پر آپ ہر ایسے شخص سے محبت کرتے تھے جس میں کچھ بھی آثار للہیت پائے جاتے بقیه حاشیه: - قولھم۔ہم از روئے بچے مذہب اپنے کے خالق اور اس کی مخلوق کو انادی اور لا انتہا کہتے ہیں۔اقول۔حضرت سلامت ہمارا سوال تو آپ سب مانتے جانتے ہیں۔تو پھر اس کی دلیل کیا ہوئی۔بھلا جس حالت میں آپ خود اقرار کرتے ہیں جو ارواح مخلوق ہیں۔اور خدا ان کا خلاق ہے تو اب صفت خالقیت کی خدا سے کیوں جاتی رہی۔خدا تھک گیا یا پیدا کرنے کی عادت بھول گئی۔ہر ایک عاقل جانتا ہے جب ارواح مخلوق ہیں تو اب بھی پیدا ہو سکتے ہیں کیونکہ اب بھی وہی خدا ہے جس نے پہلے اُن کو پیدا کیا تھا مگر شاید آریہ صاحبوں کا یہ اعتقاد ہو کہ وہ مادہ سب خرچ ہو گیا۔جس سے خدا نے روح پیدا کئے تھے۔قولهم سوامی جی روحوں کی لا انتہائی ثابت کرتے ہیں۔اقول - واہ حضرت چراغ کے نیچے اندھیرا۔آپ لوگ تو آریہ سماج کے بڑے بڑے ممبر ہیں پھر تعجب ہے کہ سوامی جی کے اصول کی اب تک آپ کو خبر نہیں۔حضرت وہ تو ہمارے اصول ثابت شدہ کو مان گئے۔اور ان بیچاروں نے صاف کہہ دیا کہ ارواح لا انتہا نہیں ہیں بلکہ معدود اور محدود ہیں اور ایک دن سب مکت ہو جاویں گے۔چنانچہ ہم ان کے اقرار پر خود آریہ سماج کے ممبروں کو گواہ رکھتے ہیں۔اور سوامی جی بھی اب تک بقید حیات ہیں۔پھر ہم کو کمال افسوس ہے کہ آپ ان کے نائب ہو کر اب تک مرغی کی ایک ٹانگ بتائے