حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 405
حیات احمد ۴۰۵ جلد اول حصہ سوم تھے۔انہیں ایام کی آپ کی ایک نظم بھی ہے۔جس سے آپ کی محبت درویشاں کا پتہ ملتا ہے۔اس کا عنوان آپ نے رکھا ہے۔فرخ در صحبت درویشاں میں یہ بھی پہلی جلد میں بیان کر آیا ہوں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنا تخلص ابتداء فرخ فرمایا کرتے تھے۔اس عنوان کے تحت میں آپ نے جو چند بیت لکھے ہیں۔وہ یقیناً قارئین بقیہ حاشیہ:- جاتے ہیں۔آپ کو ان کے مخالف رائے ظاہر کرنا مناسب نہ تھا۔کیونکہ آپ تو انہی کے زگه بردار ہیں اور فضلہ خوار ہیں اگر آپ ان کی پیروی نہیں کرتے تو پھر ان کے خلیفہ جی کیسے بن گئے۔قولهم سب جی انادی ہیں۔ان کا کوئی ابتدا نہیں۔اقول۔حضرت وہ زبان اور منہ کہاں گیا جس سے ابھی آپ نے فرمایا تھا۔جو ارواح مخلوق ہیں اور خدا ان کا خالق ہے۔یہ آپ کا عجب حافظہ ہے کہ آپ کو ابتدا کلام کا انتہا کلام کے وقت یاد نہیں رہتا۔جناب من با قرار آپ کے ارواح مخلوق ہوئے۔تو پھر مخلوق ہو کر مثل اپنے خالق کے قدیم کس طرح بن گئے مخلوق تو ہر گز قدیم نہیں بن سکتا۔مخلوق معنے پیدا شدہ اور پیدا شدہ معنے حادث بھلا کہاں قدیم اور کہاں حادث مخلوق ہونا تو حدوث زمانی پر صریح دلالت کرتا ہے۔اور اپنے خالق کے وجود کا مخلوق کے وجود پر مقدم ہونا ہر عاقل پر روشن ہے بجز اس شخص کے کہ نرانقش پھولانی ہو۔شاید بعض کے دل کو یہ وہم پکڑتا ہو گا کہ جب پیدا کرنے والا انادی ہے۔تو پیدائش اس کی بھی انادی ہوئی۔سو یہ ان کی الٹی سمجھ ہے۔کیونکہ جو پیدا کرنے کی قدرت ہے وہ انادی ہے۔پیدا کیا ہوا کا رج تو انا دی نہیں۔کارج تو فعل ہے اور فعل کسی وقت سے ضرور مقید ہو گا۔یہ عجیب معاملہ ہے۔جو پہلے روحوں کو آپ ہی پیدا شدہ کہنا۔اور پھر یہ دعوی کرنا جو روح کسی وقت میں پیدا نہیں ہوئی اور پیدا بھی ہو گئی۔حضرت من ! یہ عجائب منطق آپ کسی ملک سے لائے جس کی ارسطو بیچارے کو بھی خبر نہ تھی۔اب تک تو تمام دنیا یہ جانتی تھی کہ دو نقیضوں کا جمع ہونا وقت واحد میں محال ہے۔اب آپ