حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل)

by Other Authors

Page 403 of 470

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 403

حیات احمد ۴۰۳ جلد اول حصہ سوم یہ واقعہ بتا تا ہے کہ حضرت کی نظر میں اس زمانہ کے لئے سب سے بڑا مجاہدہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں قلمی جہاد تھا اور آپ اس میں مصروف ہو گئے۔صحبت درویشاں کا شوق میں نے حیات النبی ﷺ میں پہلے بھی بیان کیا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنی بعثت سے پہلے بعض ان لوگوں کی صحبت و ملاقات کے لئے جایا کرتے تھے جو اہل اللہ کہلاتے تھے۔چنانچہ میاں شرف الدین صاحب سم والے اور حضرت مولوی سید عبد اللہ صاحب غزنوی کی ملاقات کے لئے آپ کا تشریف لے جانا ثابت ہے۔کبھی کبھی بعض لوگ آپ کی خدمت میں بھی آ جایا کرتے تھے۔مولوی رحیم بخش صاحب ساکن تلونڈی جھنگلاں نے میرے پاس بیان کیا کہ بقیہ حاشیہ: - بن سکتے ہیں۔اب کوئی سوامی جی صاحب سے پوچھے کہ حضرت اتنے جانور کہاں سے آگئے۔اس ساعت واحد میں اتنے جانوروں کی موت ثابت کرنی چاہئے۔اور جمع خرچ پورا کر کے دکھلانا چاہئے۔ورنہ یہ پہاڑ عدم ثبوت کا آپ کی گردن پر رہے گا۔اور واضح رہے کہ یہ خود خلاف قیاس ہے کہ جب انسان به تجویز مذکورہ رکرم بنادے۔تو اسی وقت دوسرے کروڑوں جانوروں کو موت آجائے۔اور پر میشر بھی اسی وقت تناسخ کی سزا دینے لگے۔اب ہم اقوال مجیب صاحبوں کے لکھ کر ان کے وساوس رفع کرتے ہیں۔لیکن اول گورداسپورہ کے آریہ صاحبوں کا ہم پر حق شفعہ ہے۔سو پہلے ہم انہی کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔قولھم۔سوامی جی نے جیووں کے لا انتہائی کو كَمَا يَنْبَغِی ثابت کیا ہے۔اقول۔اجی حضرت یہ کیا باعث ہوا۔جو اُس كَمَا يَنبَغِی ثبوت میں سے آپ نے اپنے جواب میں کچھ بھی درج نہ کیا۔اُن عمدہ دلائل سے ایک دلیل تو بطور نمونہ لکھی ہوتی۔پر شاید وہ ثبوت آپ کی رائے میں قابل تحریر نہ تھا جو ترک کر دیا۔موجودہ نام حیات احمد۔یہ تبدیلی مکرم ومحترم عرفانی صاحب نے خود ابتدائی چند جلدوں کے بعد کر دی تھی۔(ناشر)