حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل)

by Other Authors

Page 402 of 470

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 402

حیات احمد ۴۰۲ جلد اول حصہ سوم آپ کے اس مجاہدہ صومی کی کیفیت خود حضرت اقدس ہی کے الفاظ میں جلد اول میں لکھ آیا ہوں صرف واقعات کے تسلسل میں اس کا ذکر آیا ہے:۔یہ مجاہدات روحانی اور دوسرے مجاہدات قلمی آپ کو کسی امر عظیم کے لئے تیار کر رہے تھے۔جس طرح پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں یہ نظر آتا ہے کہ بعثت سے قبل آپ غار حرا میں جا کر عبادت الہی میں مصروف ہوتے تھے اسی طرح حضرت مرزا صاحب کی زندگی کے یہ ایام وہی رنگ اور شان اپنے اندر رکھتے ہیں۔دراصل سب سے بڑا مجاہدہ آپ کا تائید دین و قوم کے لئے قلم اٹھانا تھا۔چنانچہ ایک مرتبہ حضرت مولانا مولوی نورالدین صاحب خلیفہ المسیح اول رضی اللہ عنہ نے آپ سے دریافت کیا کہ مجھے کوئی مجاہدہ بتایا جاوے۔تو آپ نے ارشاد فرمایا کہ عیسائیوں کے رڈ میں ایک کتاب لکھو، دوسرے وقت میں آپ نے آریوں کی تردید میں کتاب لکھنے کا ارشاد فرمایا۔بقیہ حاشیہ: - (۹)۔نواں ثبوت۔جس قدر ارواح موجود ہیں۔وہ پر میشر کے پیدا کئے ہوئے ہیں تو اب بھی وہ پیدا کر سکتا ہے اگر نہیں تو وہ کا ہے کا پر میشر ہے کہ جس نے نہ اوّل کچھ پیدا کیا اور نہ اب پیدا کرنے کی اس کو طاقت ہے اور علاوہ اس کے ارواح غیر مخلوق ہونے میں ایک اور بڑی قباحت ہے۔اور وہ یہ ہے کہ جب ارواح پر میشر کی مخلوق ہی نہیں ہیں تو پر میشر ان پر محیط نہیں ہوسکتا۔احاطہ صرف بوجہ رابطہ خالقیت اور مخلوقیت کے تھا۔سو وہ رابطہ بموجب اصول متبرک آپ کے پرمیشر اور روحوں میں ایک ذرہ بھی نہیں۔پس احاطہ نہ ہو سکا۔اور جب احاطہ نہ ہوا تو حجاب پیدا ہو گیا اور جب حجاب پیدا ہوا تو صفت غیب دانی کی نابود ہوئی۔اور جب پر میشر میں صفت عِلمُ الْغَیبی کی نہ رہی تو انتظام رزاقی اور جزا سزا کا سب درہم برہم ہو گیا۔غرض پر میشر ہی ہاتھ سے گیا۔(۱۰)۔دسواں ثبوت۔یہ ہے کہ اگر روح انادی ہیں اور ہمیشہ بعلت تناسخ جنم لیتے ہیں۔تو چاہئے که تعداد پیدائش کا تعداد مُردوں سے کبھی زیادہ نہ ہو۔اور یہ صریح باطل ہے کیونکہ بموجب اُن نسخوں کے جن میں طبی کتابوں میں کرم بنانے کی تجویز لکھی ہے۔ایکدن میں پچاس ارب کرم