حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 391
حیات احمد ۳۹۱ جلد اول حصہ سوم اور حصہ میں ہمیشہ لا تبدیل رہا ہے۔البتہ سیالکوٹ سے واپس آ کر آپ نے عملاً فیصلہ کر لیا تھا کہ بقیہ زندگی خدمت دین میں بسر کریں گے۔اور اسی طرف آپ نے توجہ کو تمام تر مصروف کر دیا۔اگر چہ اسی حصہ میں حضرت مرزا غلام مرتضی صاحب قبلہ مغفور نے آپ کو اپنی جائیداد کے مقدمات میں بھی الجھایا اور آپ نے ان کے ارشاد عالی کی تعمیل سے قطع سرتابی نہیں کی۔مگر آپ دل سے اس زندگی کو پسند نہ فرماتے تھے۔اور مقدمات کی پیروی میں اس امر کی پروانہ کرتے تھے کہ آیا اس کا نتیجہ ہمارے حق میں ہوگا یا خلاف بلکہ پیروی مقدمات میں یہ امر مد نظر رکھا کرتے تھے کہ حق حق ہو چنانچہ میں اسی کتاب میں لکھ آیا ہوں کہ نہ صرف خود دعا کرتے بلکہ دوسروں کو بھی دعا کی تاکید فرمایا کرتے تھے اور کسی مقدمہ کے ہار جانے کا آپ کو کوئی افسوس نہیں ہوتا تھا۔جیسے کہ عام دنیا داروں کی حالت ہوتی ہے کہ بعض اوقات وہ مقدمات میں ناکامی کے صدمہ کو برداشت ہی نہیں کر سکتے۔یہ بھی میں نے اس کتاب میں ایک واقعہ سے دکھایا ہے کہ کس طرح آپ چیف کورٹ میں ایک مقدمہ ہار کر خوش خوش واپس ہوئے تھے۔۱۸۷۶ء سے ۱۸۷۹ء تک کے واقعات پر نظر یه سارا زمانہ دراصل آپ کی ایک قسم کی تربیت کا تھا۔اور دنیا کے نشیب وفراز میں سے آپ گزر گئے۔۱۸۷۶ء سے لے کر ۱۸۷۹ء تک کا زمانہ ایک اور رنگ رکھتا ہے اب یہ وقت تھا کہ آپ کو اشاعت اسلام کے لئے مجبوراً پبلک میں آنا پڑا۔اور عیسائیوں، آریوں اور برہموؤں کے ان حملوں کے جواب کے لئے آپ نے قلم اٹھایا جو وہ اسلام پر بلا واسطہ یا بالواسطہ کرتے تھے یعنی کبھی تو وہ براہ راست اسلام کے عقائد پر حملہ کرتے اور کبھی اپنے عقائد کے دلائل اس رنگ میں پیش ا کرتے کہ مقابلہ اسلام کے عقائد کمزور اور بودے معلوم ہوں۔اس مقصد کے لئے بعض اخبارات کو آپ نے خریدنا شروع کیا۔کچھ تو اس لئے کہ مذاہب کی جنگ جو شروع ہوئی ہے۔اس کے