حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل)

by Other Authors

Page 390 of 470

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 390

حیات احمد ۳۹۰ جلد اول حصہ سوم ۱۸۶۸ء سے ۱۸۷۵ء تک کی زندگی پر ایک نظر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی اس چالیس سالہ زندگی پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے کس طرح آپ کی تربیت فرمائی۔آپ کی زندگی کا یہ زمانہ جو ۱۸۶۸ء سے ۱۸۷۵ء تک کا ہے۔بہت بڑی اہمیت رکھتا ہے۔یوں تو پیدائش سے لے کر ہر حصہ زندگی اپنے اندر کچھ خصوصیتیں رکھتا ہے مگر یہ زمانہ جبکہ آپ سیالکوٹ سے آچکے تھے کچھ اور ہی رنگ اپنے اندر رکھتا ہے۔آپ نے ارادہ تو یہ کیا تھا کہ قانونی امتحان پاس کر کے خدا کی اس مخلوق کی مدد کریں جو قانون کی ناواقفیت کی وجہ سے اپنے جائز حقوق اور مفاد سے محروم رہ جاتی ہے اور بہت سے ناکردہ گناہ شورہ پشت اور فتنہ پرداز لوگوں کے منصوبے کا شکار ہو جاتے ہیں لیکن جب آپ نے اس پیشہ کی بدعنوانیوں کو ملاحظہ کیا اور ان پر غور کیا تو آپ نے اس سے کراہت کی اور توجہ نہ فرمائی۔ظالم طبع لوگ کہتے ہیں کہ آپ نے اس امتحان میں ناکام رہنے کی وجہ سے اپنی توجہ دوسری طرف منعطف کی۔حالانکہ آپ کی زندگی کے ابتدائی واقعات بتاتے ہیں کہ آپ کی غایت و مقصود ہمیشہ مذہب رہا ہے۔اور اسلام کو ادیان باطلہ پر غالب دکھلانے کے کسی موقع کو آپ نے ان ایام میں بھی ہاتھ سے نہیں دیا جب آپ ملازم تھے۔اور اس کے لئے ان لوگوں کی شہادتیں ہیں جو احمدی نہیں بلکہ بعض ان میں سے مسلمان بھی نہیں ہیں۔چنانچہ میں لالہ بھیم سین صاحب کے نام کا ایک خط اسی کتاب میں پر درج کر چکا ہوں۔جو مجھے لالہ کنور سین صاحب بیرسٹر ایٹ لاء ( حال حج جموں ہائی کورٹ نے دیا تھا۔اور اس کے ساتھ ہی لکھا تھا کہ :- ” یہ مضمون بقول قبلہ والد ماجد مرزا صاحب نے ان ایام میں اپنے دوست ( میرے والد صاحب) کی خاطر لکھا تھا۔جبکہ ہر دو صاحب سیالکوٹ میں مقیم تھے۔اور علاوہ مشاغل قانونی وعلمی کے اخلاقی و روحانی مسائل پر بھی غور و بحث کیا کرتے تھے۔“ اور اسی طرح مخدومی مولانا میر حسن صاحب نے بتایا ہے کہ پادریوں سے مباحثات ہوا کرتے تھے۔اور انگریز پادری آپ کی بہت تعظیم کیا کرتے تھے۔آپ کا مقصد زندگی زندگی کے ہر شعبہ