حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل)

by Other Authors

Page 392 of 470

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 392

حیات احمد ۳۹۲ جلد اول حصہ سوم حالات سے واقفیت ہو۔اور جہاں حمیت اور حمایت اسلام کا موقع آ جاوے وہاں اپنے قلم سے کام لیں۔اس زمانہ میں ہم آپ کی وہ سرگرمیاں قلمی اور لسانی مناظرات کی دیکھتے ہیں جو میں اوپر دکھا آیا ہوں اور بہت ممکن ہے کہ کسی قدر آگے بھی لکھوں۔ان مباحثات میں وہ قلمی ہیں یا کسانی آپ کی ایک نمایاں خصوصیت نظر آتی ہے۔آپ معقولیت کے ساتھ بحث کرتے ہیں اور آپ دلائل اور براہین کو ایسے علمی طریق سے پیش کرتے ہیں کہ دوسرے کے لئے کوئی راستہ باقی نہ رہ جاوے۔اس زمانہ کی تحریروں اور آپ کے دعویٰ مسیحیت و مہدویت کے بعد کی تحریروں کا رنگ بالکل جدا جدا نظر آتا ہے۔ہاں ایک بات ہے جو ہمیشہ مشترک رہی ہے اور اسے آپ نے کبھی ترک نہیں کیا اور اس میں آپ تمام مناظرین اسلام سے منفرد ہیں۔اور وہ یہ ہے کہ آپ اپنے دعوئی اور دلائل کی بنا قرآن کریم پر رکھتے ہیں۔میں جب آپ کے علم کلام پر بحث کرنے کی توفیق پاؤں گا اس وقت اس حقیقت کو تفصیل سے بیان کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں۔وَاللهُ المُوَفِّق۔یہاں مجھے صرف اس کا ضمنا ذکر واقعات زندگی کے ایک خاص حصہ پر تبصرہ کرتے ہوئے کرنا پڑا ہے۔دوسری بات جو نمایاں نظر آتی ہے وہ یہ کہ ان تمام مباحثات میں آپ کو کھلی کھلی کامیابی نصیب ہوئی ہے۔اپنے اپنے موقع پر میں بیان کر چکا ہوں۔آپ کے یہ مناظرے کسی معمولی شخص سے نہیں ہوئے۔بلکہ ان لوگوں سے جو اپنے سلسلہ کے بانی یا اس کے لیڈر ممبر تھے۔چنانچہ پنڈت دیانند سرستی۔پنڈت شونرائن صاحب اگنی ہوتری کے ساتھ تو یہ مباحثات ہوئے۔اور آریہ سماج کے دوسرے لیڈروں کے ساتھ بھی۔آپ نے ان مباحثات میں ہمیشہ اسی امر کو مدنظر رکھا کہ حق کا بول بالا ہو محض ضد اور نفسانیت سے کبھی کسی مقابلہ کی کوشش نہیں کی۔۱۸۷۵ء کا آخر اور ۱۸۷۶ء کا ایک حصہ غالباً پہلی ششماہی تک آپ نے ایک عظیم الشان روحانی مجاہدہ کیا ہے۔جس کا ذکر خود حضرت