حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل)

by Other Authors

Page 357 of 470

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 357

حیات احمد ۳۵۷ جلد اول حصہ سوم آسان بات نہیں۔برسوں کی تعلیم اور خاص قسم کی تربیت سے یہ ملکہ پیدا ہوتا ہے۔اگر یہ ملکہ نہیں تو پھر صرف بولنا کون نہیں جانتا۔حیوانات بھی منہ سے آواز برآمد کر سکتے ہیں۔اور بے نشانہ ہر ایک تیر بھی لگا سکتا ہے۔پس بطور آئیں بائیں شائیں کچھ کہہ دینا یا کاغذ پر لکھ دینا بھی ویسا ہی ہے جیسا کہ کمان اٹھا کر بے نشانہ کسی سمت میں تیر چھوڑ دینا۔ایسا تیر ایک طرف جس طور سے نشانہ پر پہنچنے سے باز رہتا ہے۔دوسری طرف چلانے والے کے وقت اور محنت اور تر درد کو ضائع کرتا ہے۔دوم۔کسی اخبار یا رسالہ میں جس کے ہزاروں پڑھنے والے ہوتے ہیں۔جب کوئی مضمون چھپوانا منظور ہو تو اس میں بالخصوص اصول مذکور کے مد نظر رکھنے کی سخت ضرورت۔ہے۔کیونکہ بے سروپا بکو اس کے ساتھ کاغذ کو سیاہ کر کے ناظرین کے خیالات کو بگاڑنا، ان کی طبیعت کو منتشر کرنا اور خواہ مخواہ ان کی تضیع اوقات کرنا نہ صرف راقم مضمون کے لئے بے جا ہے بلکہ ایڈیٹر کے لئے بھی (جو اندراج مضامین کے لئے پورا پورا ذمہ دار ہے ) یہ امرنا واجب ہے۔اب دیکھنا چاہیئے کہ لالہ شرمیت صاحب نے کہاں تک ان اصولوں کی پابندی کی ہے۔اول۔جو مضمون مرزا صاحب کا ابطال تناسخ پر ہمارے رسالہ میں مشتہر ہوا۔لالہ صاحب نے اس کا جواب مطلق نہیں دیا۔دوم با وجود مرزا صاحب کی طرف سے بطلب جواب خود مخاطب کئے جانے کے مضمون مذکور پر بطور ثالث کے رائے ظاہر کرتے ہیں۔سوم۔اخبار سفیر ہند کا حوالہ دے کر اول ایک دلیل اپنے ہم ایمان باوا نرائن سنگھ صاحب کی بطور خلاصہ درج کرتے ہیں۔پھر اس کے بعد مرزا صاحب کے دلائل کا لب لباب چند الفاظ میں فرضی رقم کرتے ہیں اور وہ یہ ہے۔کہ مرزا صاحب کی یہ وجوہات ہیں کہ جس حالت میں خدا خالق ہے۔تو پہلے روحوں کا جو تفاوت مرتبہ اور رنج اور راحت ہے۔وہ کس اعمال کے بدلہ میں ہے۔“ 66 اس کا نام وجو ہات نہیں ہے۔اور نہ جن لوگوں نے مرزا صاحب کے مضامین پڑھے ہیں۔وہ کبھی باور کر سکتے ہیں کہ مرزا صاحب اس قسم کے چند حرفی جملہ کو کبھی وجوہات پر محمول کرنا اپنی طرف سے پسند کریں گے )۔