حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل)

by Other Authors

Page 356 of 470

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 356

حیات احمد ۳۵۶ جلد اول حصہ سوم راستی“ کی تقلید کی واقعی مثال قائم کریں گے۔اور اگر ان کی رائے میں مرزا صاحب کے دلائل بے بنیاد اور بے اصل ہیں تو اس بچے طریق کے ساتھ جو حق الامر کی تحقیقات کے لئے محققوں نے قائم کیا ہے مرزا صاحب کے دلائل کو اسی طرح نمبر وار جس طرح مرزا صاحب نے انہیں رقم کیا ہے۔کل کو یا اُن میں سے کسی حصہ کو غلط ثابت کر کے اپنے عقیدہ کو تقویت دیں گے۔باوجود اس کے کہ ہم نے مرزا صاحب کے مضمون کا پہلا حصہ اپنے اپریل کے رسالہ میں ختم کر دیا تھا۔اور یہ یقین کیا تھا کہ اثبات دعوی کے لئے جس قدر دلائل وہ اس مضمون میں رقم کر چکے ہیں بخوبی کافی ہیں مگر انہوں نے اسی پر اکتفا نہیں کیا۔اور ایک دوسرا حصہ اور تیار کر کے ہمارے پاس چھپنے کے لئے بھیج دیا ہے۔اس حصہ کو ہم نے ہنوز رسالہ میں درج نہیں کیا۔باایں خیال کہ جو دلائل مرزا صاحب پہلے حصہ میں مشتہر کر چکے ہیں۔اگر انہیں کے رڈ کرنے کے لئے اہل آریہ تیار نہیں ہیں تو پھر مضمون مذکور کو اور زیادہ دلائل کے ساتھ طول دینا بالفعل کچھ ضرور نہیں۔لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ ہماری امید بالکل خالی نہیں گئی۔لالہ شرمیت صاحب نے جو آریہ سماج قادیان کے سیکرٹری ہیں۔ایک مضمون اثبات تناسخ پر ہمارے پاس برادر ہند میں مشتہر کرنے کے لئے بھیجا ہے۔چنانچہ اسے ہم درج رسالہ کرتے ہیں۔کس حیثیت کا وہ مضمون ہے۔اور اس کا نفس مضمون کس سانچہ کا ڈھلا ہوا ہے۔اور اس کی طر ز عبارت سے راقم مضمون کی ذاتی لیاقت اور فضیلت کا کہاں تک اظہار ہوتا ہے۔اور اصول مناظرہ سے اس کا ڈھنگ بیان کہاں تک موافق یا منافق ہے۔اس کا فیصلہ ہم خود کرنا نہیں چاہتے بلکہ اپنے ناظرین پر چھوڑتے ہیں۔ہاں چند کلمے بطریق ہدایت دوستانہ لالہ صاحب اور نیز ان کے ہم خیال صاحبوں کے لئے یہاں پر درج کرنا مناسب خیال کرتے ہیں۔اول۔ہر کام کے لئے اس کے موافق انسان میں ایک خاص ملکہ ہونا ضروری ہے۔اصولِ مناظرہ یا بحث بھی اس قاعدہ سے خالی نہیں۔پس پیشتر اس کے کہ ہم کچھ کہنے یا لکھنے کی جرأت کریں ہمارے لئے یہ لازم ہے کہ اپنے تئیں اصول مذکورہ کی صفت سے متصف بنالیں۔اور یہ کوئی