حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل)

by Other Authors

Page 358 of 470

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 358

حیات احمد ۳۵۸ جلد اول حصہ سوم 9966 چہارم۔یہاں تک دونوں طرف کی وجوہات بیان کر کے پھر مثل جج کے فیصلہ لکھتے ہیں۔اور فیصلہ کو اس سوال کے ساتھ شروع کرتے ہیں۔کہ ایک شخص دنیا میں گناہگار ہے۔وہ مرکز ”جب باعتقاد مرزا صاحب دوزخ میں ڈالا جائے گا۔تو وہ جب اپنے اعمال قبیحہ کی سزا بخوبی پاچکا تو پھر وہ دوزخ سے نکل کر کہاں جائے گا۔“ اور پھر آپ ہی اس کا ایک جواب فرضی دے کر کہ اگر وہ ہمیشہ کے لئے دوزخ میں ڈالا جائے گا۔تو خدا کے عادل ہونے میں بہت سا بٹہ لگتا ہے۔چٹ سے ایک فرضی فیصلہ بھی لکھ دیتے ہیں۔چنانچہ فرماتے ہیں کہ "باوا صاحب کی یہ وجہ کہ تفاوت مراتب راحت و رنج دلیل تناسخ کی ہے قابل اعتبار ہے۔اور پھر اخیر میں لکھتے ہیں کہ ”اگر مرزا صاحب ہمارے اس فیصلہ سے منہ موڑیں تو ان پر لازم ہے کہ دوزخ کی بابت جیسا کہ اوپر بیان ہوا ہے مفصل کیفیت جس کو عقل سلیم تسلیم کرے ہمارے سامنے بذریعہ اخبار کے پیش کریں۔ورنہ ان کی ڈگری تناسخ کی منسوخ ہو گی۔“ واہ کیا فرضی فیصلہ ہے !خدانخواستہ اگر ہمارے لالہ صاحب کسی عدالت کے جج ہوتے۔تو مثل اوپر کے خوب پُر بہار فیصلہ لکھا کرتے۔اور داد رسوں کے حقوق کی اپنی منطق کے زور میں خوب محافظت کرتے !!! ہم نے اس مضمون کو بالخصوص رسالہ ہذا میں اس لئے درج کیا ہے کہ جن ناظرین نے مرزا صاحب کی وجوہات ابطال تناسخ کے بارے میں علم بیان اور اصول مناظرہ کے طریق پر ملا حظہ کی ہیں۔وہ طرف ثانی کی ذکاوت طبع اور ڈھنگ بحث سے بھی واقف ہو جاویں۔ہم آخر میں پھر اپنے کلام کا اعادہ کرتے ہیں۔اور بادب تمام لالہ صاحب اور ان کے ہم رنگ صاحبان سے التماس کرتے ہیں کہ وہ یا تو عقلِ سلیم کو کام میں لا کر مرزا صاحب کی وجوہات کو جو ابطال تناسخ پر انہوں نے لکھی ہیں۔خوب غور اور فکر سے جانچ پڑتال کر کے بشرط صحیح سمجھنے کے اپنے غلط اور فرضی عقیدہ سے طبیعت کو صاف کر لیں یا در صورت مرزا صاحب کی وجوہات کو ناقص سمجھنے کے ان کو نمبر وار دلائل لمّی اور انٹی اور اصول منطق اور مناظرہ کے ساتھ غلط ثابت