حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل)

by Other Authors

Page 355 of 470

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 355

حیات احمد ۳۵۵ جلد اول حصہ سوم دیا نند صاحب کے توابع میں سے نہیں ہیں۔اور آریہ سماج عام طور پر پابند خیالات سوامی دیانند کی نہیں۔یہ بڑی بھاری فتح تھی۔اور پنڈت کھڑک سنگھ کی تو کھلی کھلی شکست تھی۔ان حالات میں لالہ شرمیت رائے صاحب کو ( جو حضرت مرزا صاحب کی خدمت میں آیا کرتے تھے ) یہ خیال پیدا ہوا کہ وہ بھی قادیان کے بازار سے نکل کر اخباری دنیا میں آئیں۔اور بطور خود باوا نرائن سنگھ صاحب وکیل (سیکرٹری آریہ سماج امرتسر ) اور حضرت صاحب کے درمیان جو تحریری مباحثہ اخبارات میں جاری تھا۔اس پر محاکمہ لکھیں۔چنانچہ انہوں نے ایک مضمون لکھ کر ہند و با ند ھولا ہور کو بغرض اشاعت روانہ کیا۔ایڈیٹر صاحب نے اس مضمون کو درج کرتے ہوئے حضرت صاحب کے دلائل اور اسلوب مناظرہ پر اور لالہ شرمپت رائے صاحب کی تحریر پر جو فیصلہ دیا۔وہ اس قابل ہے کہ اسے یہاں درج کر دیا جاوے۔اس لئے کہ وہ ایک تاریخی دستاویز ہے اور وہ ایک مختلف اسلام کا فیصلہ ہے۔جس سے حضرت صاحب کے دلائل کی قطعیت اور حجیت کا ثبوت ہوتا ہے۔چنانچہ پنڈت شونرائن اگنی ہوتری صاحب لکھتے ہیں۔”ہمارے ناظرین کو یاد ہوگا کہ ماہ فروری ۱۸۷۹ء کے رسالہ میں مرزا غلام احمد صاحب کا اخیر مضمون جو ابطال تناسخ پر ہم نے درج کیا تھا۔وہ گل کا گل ماہ مذکور کے رسالہ میں مشتہر نہ ہو سکنے کے باعث ما بعد کے دو رسالوں میں مندرج ہو کر اختتام کو پہنچا تھا۔اس مضمون کے ضمن میں مرزا صاحب نے ایک اعلان بھی دیا تھا۔اور اس میں انہوں نے بطلب جواب آریہ سماجوں کے بانی سوامی دیانند سرسوتی صاحب اور کئی ایک ان کے لائق اور مشہور مقلدوں کو (جن کے نام نامی رسالہ ماہ فروری ۱۸۷۹ء کے صفحہ ۳۹ میں رقم ہو چکے ہیں) مخاطب کیا تھا۔ہم نے نہایت خوشی کے ساتھ اس مضمون کو درج رسالہ کیا تھا۔اور یہ امید دل میں قائم کی تھی کہ اگر مرزا صاحب کی دلائل جو نہایت صاف اور اصول منطق پر مبنی ہیں۔مذکورہ بالا صاحبان کی سمجھ میں آجائیں گے۔تو وہ بشرط اپنے اس اصول پر صادق رہنے کے کہ "راستی کے قبول کرنے اور ناراستی کے چھوڑنے کے لئے ہمیشہ مستعد رہنا چاہیئے۔ضرور ہے کہ عام اور علانیہ طور سے وہ خدا کی خالقیت اور ابطال تناسخ کو تسلیم کر کے۔66