حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 351
حیات احمد ۳۵۱ جلد اول حصہ سوم کہ یہ سب چیزیں تیرے ہی نفع کے لئے میں نے پیدا کی ہیں۔(۴) بجز خدا تعالیٰ کے کسی چیز کی بطور حقیقی تعریف مت کر کہ سب تعریفیں اسی کی طرف راجع ہیں۔بجز اس کے کسی کو اس کا وسیلہ مت سمجھ کہ وہ تجھ سے تیری رگِ جان سے بھی زیادہ نزدیک تر ہے۔(۵) تو اس کو ایک سمجھ کہ جس کا کوئی ثانی نہیں۔تو اس کو قا در سمجھ جو کسی فعل قابل تعریف سے عاجز نہیں۔تو اس کو رحیم اور فیاض سمجھ کہ جس کے رحم اور فیض پر کسی عامل کے عمل کو سبقت نہیں۔دوم۔حالت موجودہ دنیا کے مطابق گناہوں کی مخالفت۔(1) تو سچ بول اور سچی گواہی دے۔اگر چہ اپنے حقیقی بھائی پر ہو یا باپ پر ہو یا ماں پر ہو یا کسی اور پیارے پر ہو اور حقانی طرف سے الگ مت ہو۔(۲) تو خون مت کر۔کیونکہ جس نے ایک بے گناہ کو مار ڈالا وہ ایسا ہے کہ جیسے اس نے سارے جہان کو قتل کر دیا۔(۳) تو اولا دکشی اور دختر کشی مت کر تو اپنے نفس کو آپ قتل نہ کر۔تو کسی قاتل یا ظالم کا مددگار مت ہو۔تو زنا مت کر۔(۴) تو کوئی ایسا فعل نہ کر جو دوسرے کا ناحق باعث آزار ہو۔(۵) تو قمار بازی نہ کر۔تو شراب مت پی۔تو سو د مت لے۔اور جو اپنے لئے اچھا سمجھتا ہے وہی دوسرے کے لئے کر۔(1) تو نامحرم پر ہرگز آنکھ مت ڈال نہ شہوت سے نہ خالی نظر سے کہ یہ تیرے لئے ٹھوکر کھانے کی جگہ ہے۔(۷) تم اپنی عورتوں کو میلوں اور محفلوں میں مت بھیجو۔اور ان کو ایسے کاموں سے بچاؤ کہ جہاں وہ جنگی نظر آویں۔تم اپنی عورتوں کو زیور چھنکارتے ہوئے خوش اور نظر پسند لباس میں کو چوں اور بازاروں اور میلوں کی سیر سے منع کرو۔اور ان کو نامحرموں کی نظر سے بچاتے رہو۔تم اپنی عورتوں کو تعلیم دو۔اور دین اور عقل اور خدا ترسی میں ان کو پختہ کرو۔اور اپنے لڑکوں کو علم پڑھاؤ۔