حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 350
حیات احمد ۳۵۰ جلد اول حصہ سوم ۱۰۰۰ اور جیسا کہ خدا نے ہم کو فرمایا ہے نجات سب مخلوقات کی اسلام میں سمجھتے ہیں۔تم کو اگر حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم پر کچھ اعتراض ہے تو زبان تہذیب سے وہ اعتراض جوسب سے بھاری ہو تحریر کر کے پیش کرو۔ہم تحریر کر دیتے ہیں کہ اگر وہ اعتراض تمہارا صحیح ہوا تو ہزار روپیہ (س) ہم تم کو دیں گے۔اور تم ایک ٹو نمبر لکھ دو گے کہ اگر وہ اعتراض جھوٹا نکلا تو سوروپیہ بطور جرمانہ تم ہم کو دو گے۔اور اب اگر ہماری یہ تحریرین کر چپ ہو جاؤ اور اس شرط پر بحث شروع نہ کرو تو ہر ایک منصف سمجھ جائے گا کہ وہ سب تو ہین تم نے بے ایمانی سے کی تھی۔اکثر لوگوں کا اکثر قاعدہ ہے کہ آفتاب پر تھوکتے ہیں اور بجھا ہوا چراغ لئے بیٹھے ہو۔دنیا کو بڑی چیز سمجھ رکھا ہے کہ موت سے ڈرتے نہیں۔ورنہ ایسے آفتاب کی توہین کرنا جونور دنیا کا ہے نری حرامزدگی ہے۔جھوٹے آدمی کی یہ نشانی ہے کہ جاہلوں کے رو برو تو بہت لاف گزاف مارتے ہیں مگر جب کوئی دامن پکڑ کر پوچھے کہ ذرا ثبوت دے کر جاؤ تو جہاں سے نکلے تھے وہیں داخل ہو جاتے ہیں۔اب ہم نیچے وہ احکام فرقان مجید کے لکھتے ہیں کہ جن میں ہمارا یہ دعویٰ ہے کہ وید میں یہ تمام احکام ضرور یہ ہرگز موجود نہیں۔اس لئے وید ناقص تعلیم ہے۔اور تم کہتے ہو کہ ہیں اور ہم کہتے ہیں کہ ہرگز نہیں۔اور لعنت اس شخص پر کہ جھوٹا ہے۔اوّل۔خدا تعالیٰ کی نسبت جو احکام فرقان مجید کے ہیں۔خلاصہ آیات کے نیچے لکھتا ہوں۔(۱) تم خدا کو اپنے جسموں اور روحوں کا رب سمجھو، جس نے تمہارے جسموں کو بنایا۔اُسی نے تمہاری روحوں کو پیدا کیا۔وہی تم سب کا خالق ہے۔اس بن کوئی چیز موجود نہیں ہوئی۔(۲) آسمان اور زمین اور سورج اور چاند اور جتنی نعمتیں زمین آسمان میں نظر آتی ہیں۔یہ کسی عمل کنندہ کے عمل کی پاداش نہیں ہیں۔محض خدا کی رحمت ہے۔کسی کو یہ دعویٰ نہیں پہنچتا کہ میری نیکیوں کے عوض میں خدا نے سورج بنایا زمین بچھائی یا سورج پیدا کیا۔(۳) تو سورج کی پرستش نہ کر۔تو چاند کی پرستش نہ کر۔تو آگ کی پرستش مت کر۔تو پتھر کی پرستش مت کر۔تو مشتری ستارے کو مت پوجا کر۔تو کسی آدم زاد یا اور کسی جسمانی چیز کو خدا مت سمجھ