حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل)

by Other Authors

Page 352 of 470

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 352

حیات احمد ۳۵۲ جلد اول حصہ سوم (۸) تو جب حاکم ہو کر کوئی مقدمہ کرے۔تو عدالت سے کر اور رشوت مت لے۔اور جب تو گواہ ہو کر پیش ہو تو سچی گواہی دے دے۔اور جب تیرے نام حاکم کی طرف سے بغرض ادا کسی گواہی کے حکم طلبی کا صادر ہو تو خبر دار حاضر ہونے سے انکارمت کیجیو۔اور عدول حکمی مت کر یو۔(۹) تو خیانت مت کر۔تو کم وزنی مت کر اور پورا پورا تول۔تو جنس ناقص کو عمدہ کی جگہ مت بدل۔تو جعلی دستاویز مت بنا۔اور اپنی تحریر میں جعل سازی نہ کر۔تو کسی پر تہمت مت لگا۔اور کسی کو الزام نہ دے کہ جس کی تیرے پاس کوئی دلیل نہیں۔(۱۰) تو چغلی نہ کرے۔تو گلہ نہ کر۔تو نمامی نہ کر اور جو تیرے دل میں نہیں وہ زبان پر مت لا۔(۱۱) تیرے پر تیرے ماں باپ کا حق ہے۔جنہوں نے تجھے پرورش کیا۔بھائی کا حق ہے۔محسن کا حق ہے۔بچے دوست کا حق ہے۔ہمسایہ کا حق ہے۔ہم وطنوں کا حق ہے۔تمام دنیا کا حق ہے۔سب سے رتبہ بارتبہ ہمدردی سے پیش آ۔(۱۲) شرکاء کے ساتھ بد معاملگی مت کر۔یتیموں اور نا قابلوں کے مال کو خورد بُر دمت کر۔(۱۳) اسقاط حمل مت کر۔تمام قسموں زنا سے پر ہیز کر کسی عورت کی عزت میں خلل ڈالنے کے لئے اس پر کوئی بہتان مت لگا۔(۱۴) رو بخدا ہواور رو بدنیا نہ ہو کہ دنیا ایک گزر جانے والی چیز ہے۔اور وہ جہان ابدی جہان ہے بغیر ثبوت کامل کے کسی پر نالائق تہمت مت لگا۔کہ دلوں اور کانوں اور آنکھوں سے قیامت کے دن مؤاخذہ ہوگا۔(۱۵) کسی سے کوئی چیز جبرا مت چھین۔اور قرض کو عین وقت پر ادا کر۔اور اگر تیرا قرض دار نادار ہے تو اس کو قرض بخش دے۔اور اگر اتنی طاقت نہیں تو قسطوں سے وصول کر۔لیکن تب بھی اس کی وسعت و طاقت دیکھ لے۔(۱۶) کسی کے مال میں لا پرواہی سے نقصان مت پہنچا اور نیک کاموں میں لوگوں کو مدد دے۔(۱۷) اپنے ہمسفر کی خدمت کر اور اپنے مہمان کو تواضع سے پیش آ۔سوال کرنے والے کو