حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل)

by Other Authors

Page 340 of 470

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 340

حیات احمد ۳۴۰ جلد اول حصہ سوم رفیق زندگی کے اظہار اسلام کے لئے آمادہ ہو گئے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو دربار شہرت میں کسی کرسی پر بیٹھنے سے کراہت اور کسی ایسے کام کے اشتہار سے نفرت تھی۔جو محض خدا تعالیٰ کی رضا کے لئے کیا گیا ہو۔اگر آپ کی جگہ کوئی اور شخص ہوتا تو وہ سردار سنت سنگھ صاحب کے قبول اسلام کے متعلق اپنی خاص کوششوں کا خوب اشتہار دیتا۔مگر آپ نے کبھی پسند نہ کیا کہ اس کا ذکر بھی ہو بلکہ آپ نے اس کے اعلان اسلام کے لئے بھی یہی مناسب سمجھا کہ اُسے بٹالہ صاحبزادہ ظہور الحسن صاحب سجادہ نشین بٹالہ کے پاس بھیج دیں۔چنانچہ صاحبزادہ صاحب موصوف نے جو تحریر سردار سنت سنگھ صاحب کے اعلان کے متعلق لکھی۔اس میں تحریر فرمایا۔اما بعد بر کافہ اہلِ اسلام ہویدا باد کہ اندریں آوان سعید و زمان حمید سردار سنت سنگھ بہ معیت اہلیہ خویش ببرکت صحبت جناب مرزا غلام احمد صاحب سلمہ اللہ الصمد کہ شخصے وحید عصر است نو رایمان در قلب فیض طلب و ا تافت - يَهْدِى اللَّهُ لِنُوْرِهِ مَنْ يَشَاءُ۔عزیزی نبی بخش پٹواری ساعی شد که فقیر حسب معمول مشایخ خویش رحمہم اللہ کلمہ شہادت آن سردار صاحب رشد را تلقین کند اگر چہ بروئے حصول ایں سعادت مرزا غلام احمد ہزار درجه از من اولی بود ۲۲ / جمادی الاول ۱۳۰۱ھ دستخط خواجه صاحبزادہ سید ظہور الحسن سجادہ نشین بٹالہ قادری فاضلی بدستخط خویش حمید ترجمہ:۔اما بعد تمام اہل اسلام پر واضح ہو کہ میں ان پر سعادت ایام میں سردار سنت سنگھ مع ان کی اہلیہ جناب مرزا غلام احمد صاحب سلمه الله الصمد جو وحید عصر ہیں اور نور ایمان ان کے دل فیض طلب میں ظاہر وباہر ہے، کی صحبت سے فیض یاب ہوئے۔يَهْدِى اللَّهُ لِنُورِهِ مَنْ يَشَاءُ عزیزی نبی بخش پٹواری نے اہتمام کیا کہ فقیر اپنے مشائخ رحمہم اللہ کے طریق پر اس سردار صاحب رشد کو کلمہ شہادت کی تلقین کرے حالانکہ اس سعادت کے حصول کے لئے مرزا غلام احمد صاحب مجھ سے ہزار درجے اولی اور بہتر ہیں ۲۲ جمادی الاول ۱۳۰۱ھ دستخط خواجہ صاحبزادہ سید ظہور الحسن سجادہ نشین بٹالہ قادری فاضلی بدستخط خویش