حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 339
حیات احمد ۳۳۹ جلد اول حصہ سوم تبلیغ اسلام کا جوش انہیں ایام میں جبکہ آپ زمینداری کے مقدمات اور دوسرے کاروبار میں مصروف تھے۔آپ کو تبلیغ اسلام کا بھی بہت بڑا جوش تھا۔جو لوگ آپ کے پاس غیر مذاہب کے آتے تھے۔آپ بوجہ احسن ان کو اسلام کی طرف دلائل و برہان اور موعظہ حسنہ کے ذریعہ دعوت دیتے رہتے تھے اور اس میں زیادہ تر آپ کا طریق یہ ہوتا تھا کہ آپ اسلام کی خوبیاں نہ صرف عقلی طور پر بیان فرماتے بلکہ اسلام کے عملی ثمرات کو پیش کرتے۔ان لوگوں میں سے جو آپ کے زیر تبلیغ تھے ان میں سے ایک سردار سنت سنگھ صاحب ساکن بٹر کلاں تھے۔وہ ایک معزز خاندان کے ممبر تھے اور تعلیم یافتہ تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خاندان کے ساتھ ان کے تعلقات بوجہ ایک معزز زمیندار کے گویا برادری سے تعلقات تھے۔سردار سنت سنگھ صاحب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں آنے لگے اور رفتہ رفتہ ان کو اسلام سے اُنس پیدا ہوا۔ان دنوں میں کسی سکھ کا مسلمان ہو جانا کوئی معمولی بات نہیں ہو سکتی تھی اور پھر ایک ایسے معزز آدمی کا اور تعلیم یافتہ کا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے عملی نمونہ ، آپ کے کمالات باطنی اور روحانی نے سردار سنت سنگھ صاحب کو اسلام کی طرف مائل کیا۔اور ایک عرصہ تک وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوتارہا اور اسلام کی تعلیم پاتا رہا۔آخر وہ پورے طور پر اسلام کی خوبیوں اور اس کی تعلیم کی صداقت اور اس کے اثرات اور اعجازی کمالات کو دیکھ کر اس نتیجہ پر پہنچا کہ اس کو مسلمان ہو جانا چاہیئے کیونکہ بغیر اس کے نجات نہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس کو اس امر کی طرف بھی توجہ دلائی کہ وہ اپنی بیوی کو بھی تبلیغ کرے۔چنانچہ کچھ عرصہ تک سردار سنت سنگھ صاحب کا اظہار اسلام رُکا رہا۔وہ مسلمان ہو چکے تھے۔مگر اعلان سے پہلے یہ ضروری سمجھا گیا کہ وہ اپنی رفیق زندگی کو بھی شریک کریں۔جب انہوں نے اپنی بیوی کو تبلیغ شروع کی تو بعض مشکلات کا پیش آنا ضروری تھا۔وہ آئیں۔مگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی رہنمائی سے خدا تعالیٰ نے ان مشکلات کو دور کر دیا۔اور حضرت کی توجہ اور دعاؤں کا نتیجہ یہ ہوا کہ سردار سنت سنگھ صاحب مع اپنی