حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 341
حیات احمد ۳۴۱ جلد اول حصہ سوم ممکن ہے کسی صاحب کو یہ خیال گزرے کہ بٹالہ جانے کا محرک منشی نبی بخش پٹواری تھا۔۔اگر چه تحریر مذکور خود مظہر ہے کہ سردار سنت سنگھ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے فیض صحبت ہی سے حلقہ اسلام میں داخل ہوا۔اور صاحبزادہ صاحب کا یہ تحریر فرمانا کہ حضرت مرزا غلام احمد صاحب اس سعادت کے حاصل کرنے کے لئے مجھ سے ہزار درجہ افضل ہیں۔خود دلالت کرتا ہے کہ آپ نے ہی تلقین اور اعلان کے لئے ان کو بھیجا تھا۔منشی نبی بخش صاحب پٹواری بٹالہ اس زمانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پاس آیا کرتے تھے۔ان کو عیسائیوں سے گفتگو اور مناظرہ کرنے کا شوق تھا۔اور اس غرض کے لئے اضافہ معلومات اور حل اعتراضات نصاری کے لئے حضرت کی خدمت میں آیا کرتے تھے۔میں اس کے متعلق کسی قدر تفصیل سے آگے لکھوں گا۔( انشاء اللہ ) یہاں صرف اتنا ہی بتانا ہے کہ چونکہ وہ حضرت ہی کے پاس آیا کرتے تھے۔اور عیسائیوں سے بحث مباحثہ کا ایک شغل رکھتے تھے۔حضرت نے سردار سنت سنگھ صاحب کو ان کی ہی معرفت بٹالہ بھیج دیا تا کہ وہ اعلانِ اسلام کریں۔چنانچہ ایسا ہی ہوا۔وہ غرض حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے فیض صحبت نے اس سکھ خاندان کو اسلام میں داخل کیا۔اور اسلام کی لذت اور ایمان کی بشاشت ایسی گھر کر گئی کہ سردار سنت سنگھ صاحب (جن کا اسلامی نام بعد میں عبد الرحمن ہوا) کسی کے بہکانے میں نہ آئے۔اگر چہ وہ اپنے گاؤں میں بہت معزز آدمی تھے مگر قبول اسلام کے بعد ہر قسم کی تکالیف ان کے یک جدیوں کی طرف سے دی گئیں لیکن وہ ہمیشہ مردانہ وار اسلام میں کھڑے رہے۔آخر پنڈت لیکھرام کو بھی بلایا گیا۔اور وہ ایک ڈیپوٹیشن لے کر ان کے پاس پہنچا۔اور ہر قسم کے سبز باغ دکھا کر ان کو مرتد کرنا چاہا۔مگر اس نے کبھی پرواہ نہ کی اور ذرا بھی اسے جنبش نہ ہوئی۔وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات کے بعد دیر تک زندہ رہے اور اب خلافت ثانیہ میں وفات پائی ہے۔آخر وقت تک وہ ایک مخلص احمدی رہا۔جیسا کہ میں لکھ چکا ہوں کسی قدر تفصیل سے اس کا ذکر انشاء اللہ پھر آئے گا۔یہاں اس قدر واقعہ صرف اس لئے بیان کیا ہے کہ آپ اس زمانہ میں بھی تبلیغ و اشاعت اسلام کے کام میں مصروف تھے اور آپ