حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 305
حیات احمد ۳۰۵ جلد اول حصہ دوم حضرت کی جیب میں ایک اینٹ رکھ دی۔کئی دن تک حضرت کو اس کے درد نے بے قرار رکھا مگر آپ کو اس وقت تک معلوم نہ ہوا جب تک حامد علی نے اسے نہ نکالا۔تو یہ کوئی نئی بات نہیں۔یہ استغراق اور توجہ الی اللہ شروع سے ہی آپ کو ایسی تھی کہ ان باتوں کا آپ کو خیال بھی نہیں آتا تھا۔رات بھر ایک پاؤں میں جوتا پہنے رہے اور ضرورت پر تلاش کرتے رہے۔اور معلوم نہ ہوا کہ وہ کہاں ہے؟ زمانہ ایسا ہے کہ آپ ایک قسم کی گمنامی کی زندگی بسر کر رہے ہیں گر دو پیش خدام و مریدین کا کوئی حلقہ نہیں جو تکلف سے کوئی بات ہوتی ہو وہ زمانہ آپ کی فطرتی حالت کا نقشہ پیش کرتا ہے کہ کس طرح پر آپ فنا فی اللہ کے مقام پر تھے۔الغرض ان حالات میں یہ زمانہ گزر رہا تھا کہ ایک روز صبح کے وقت فجر کی نماز کے بعد یکا یک آپ پر عجیب حالت طاری ہوئی۔ماموریت کی بشارت ایک روز صبح کے وقت فجر کی نماز کے بعد یکا یک آپ پر عجیب حالت طاری ہوئی۔پاس والوں کو یہ خیال گزرا کہ شاید کسی بیماری نے (خدا نخواستہ) حملہ کر دیا ہے یکا یک آپ پر ایک قسم کی ر بودگی اور غنودگی طاری ہوئی (یہ بڑی مسجد کا واقعہ ہے ) تھوڑی دیر کے بعد وہ حالت جاتی رہی۔تو آپ اَلْحَمْدُ لِلہ کہہ کر ہوش میں آئے اور کہا کہ مجھ پر ظاہر ہوا ہے کہ ایک باغ لگایا جا رہا ہے اور میں اس کا مالی مقرر کیا گیا ہوں۔“ آپ نے جب یہ واقعہ سنایا تو بعض حقیقت سے دور اور صداقت سے مہجور ہنس پڑے اور حضرت سے کہنے لگے کہ آپ مالی مقرر ہوں گے۔وہ نادان سمجھتے تھے کہ جیسے یہ باغ ہم دیکھتے ہیں اور ان کے مالی بیٹھے طوطے اڑاتے ہیں نعوذ باللہ ایسی ہی بات ہے۔مگر یہاں تو آپ کو باغ احمد صلی اللہ علیہ وسلم کا مالی بنایا جارہا تھا۔اُس وقت اُن کی نظروں سے یہ بات پوشیدہ تھی۔مگر نوٹ :- حضرت منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی کی روایت میں آدھی ٹوٹی گھڑے کی ایک چینی اور دو ایک ٹھیکرے لکھا ہے ملاحظہ ہو اصحاب احمد جلد چہارم طبع دوم صفحہ ۹۹