حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 304
حیات احمد ۳۰۴ جوتی گم ہو گئی اِسْتِغْرَاقِ إِلَی اللہ کا ایک واقعہ جلد اول حصہ دوم جن دنوں آپ بعض دوسرے اشخاص کی تحریک پر جموں کی طرف تشریف لے گئے ہیں راستہ میں جوتے کے گم ہونے کا واقعہ تو پہلے بیان ہو چکا ہے۔ان دنوں ایک مرتبہ آپ کا جوتا عجیب طرز سے گم ہوا جو ایک لطیفہ سے کم نہیں۔اور دراصل آپ کے استغراق الى الله کی ایک مثال ہے۔سردی کا موسم تھا آپ نے چمڑے کے موزے پہنے ہوئے تھے جن کو اس ملک میں لکڑیل کی جرابیں کہتے ہیں۔وہ بجائے خود جوتی ہی کی طرح گویا ہوتی ہیں۔رات کو سونے لگے تو پاؤں سے جو تا نکالا۔ایک جوتا تو نکل گیا اور دوسرا پاؤں ہی میں رہا۔اور اس جوتے سمیت ہی تھوڑا بہت حصہ رات کا جو سوتے تھے سوئے رہے۔اٹھے تو جوتے کی تلاش ہوئی۔اِدھر اُدھر دیکھا پتہ نہیں چلتا۔ایک پاؤں موجود ہے۔اور یہ خیال ہی نہیں آتا کہ پاؤں میں رہ گیا ہو گا۔خادم نے کہا کہ شاید کتا لے گیا ہو گا۔اور اس خیال پر وہ ادھر اُدھر دیکھنے بھالنے لگا۔تھوڑی دیر کے بعد اتفاقاً جو پاؤں پر ہاتھ لگا تو معلوم ہوا کہ او ہو ! وہ تو پاؤں ہی میں پھنسا ہوا ہے اور ہم خیال کرتے رہے کہ صرف جراب ہی ہے۔خیر خادم کو آواز دی۔جو تامل گیا۔پاؤں ہی میں رہ گیا تھا۔“ بظاہر ایک احمق اور کوتاہ بین یہ کہے گا کہ کیسی بے احتیاطی یا غفلت ہے لیکن اگر وہ خدا کے لئے غور کرے گا۔تو اسے معلوم ہو گا کہ ان باتوں کی طرف آپ کی توجہ ہی نہیں تھی۔وہ اپنے اوقات گرامی کو ایسے چھوٹے چھوٹے کاموں میں لگانا نہیں چاہتے تھے کہ مثلاً لباس کی ہی دیکھ بھال میں لگے رہیں۔آپ کے واقعات زندگی اور آپ کے ملفوظات سے پتہ لگتا ہے کہ آپ اپنے ہر سانس کو خدا تعالیٰ کے دین کی خدمت اور تائید ہی میں بسر کرنا چاہتے تھے۔ایک مرتبہ فرمایا: کہ "میرا تو یہ حال ہے کہ پاخانہ پیشاب پر بھی مجھے افسوس ہوتا ہے کہ اتنا وقت ضائع ہو جاتا ہے کہ یہ بھی کسی دینی کام میں لگ جاوے۔اور یہ استغراق ہمیشہ آپ کو رہا۔یہ واقعہ تمام کو معلوم ہے کہ حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب جب چھوٹے بچہ تھے۔تو آپ نے