حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل)

by Other Authors

Page 303 of 470

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 303

حیات احمد میاں غفارا نمازی بن گیا جلد اول حصہ دوم میاں غفارا جب نمازی ہو گیا تو آپ نے اس کو اور ان بچوں کی پارٹی کو جو آپ کے پاس آتی تھی درود شریف کثرت سے پڑھنے کی طرف توجہ دلائی۔اور جو درود مسنون نماز میں پڑھا جاتا ہے اس کا وظیفہ ان کو بتایا کہ عشاء کی نماز کے بعد درود شریف پڑھ کر سو رہا کرو۔اور جو خواب وغیرہ آیا کرے صبح کو سنایا کرو۔چنانچہ اُن سب کا یہ معمول ہو گیا۔اور تعبیر جو حضرت صاحب بیان کرتے وہ صحیح ثابت ہوتی۔میاں غفارے پر حضرت مسیح موعود یہاں تک رحم فرماتے۔اگر وہ کھانے کے وقت نہ ہوتا تو آپ اپنے کیسہ میں روٹی ڈال کر باغ کی طرف چلے جاتے اور غفا را کو دے دیتے۔پھر یہ احسان یہاں تک ترقی کر گیا کہ غفارا کی شادی کے اخراجات کے لئے آپ نے ایک بڑا حصہ دیا۔دو زیور اس کو دیئے جو اس نے اسی روپیہ کو فروخت کر لیا۔غرض ہر طرح اس کی ہمدردی اور غمخواری فرماتے مگر اس کی حالت بالکل اس کے مصداق ثابت ہوئی۔تهیدستان قسمت را چه سود از رهبر کامل که خضر از آب حیوان تشنه می آرد سکندر را جب اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود کے برکات اور فیوض کے سلسلہ کو وسیع کیا تو دینی طور پر اس نے کوئی فائدہ نہ اٹھایا۔گودنیوی طور پر جماعت کی کثرت نے اس کے کاروبار کو بھی فائدہ پہنچایا مگر اصل حقیقت سے اس نے حصہ نہ لیا۔غرض حضرت مسیح موعود ہر طرح ان لوگوں پر رحم فرماتے ( غفارا کا کام اتنا ہی تھا کہ جب آپ مقدمات کے لئے سفر کرتے تو وہ ساتھ ہوتا۔اور لوٹا اور مصلی اُس کے پاس ہوتا۔اُن دنوں آپ کا معمول یہ تھا کہ رات کو بہت ہی کم سوتے اور اکثر حصہ جاگتے۔اور رات بھر نہایت رقت آمیز لہجہ میں گنگناتے رہتے۔