حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل)

by Other Authors

Page 302 of 470

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 302

حیات احمد جلد اول حصہ دوم کے اس توجہ اور مروت سے اس غریب کے ساتھ پیش نہیں آتے تھے مگر حضرت اقدس کو ہمیشہ اس کا خیال رہتا۔اور اپنی بساط کے موافق اس کے ساتھ ضرور سلوک کرتے رہتے تھے۔اور اپنے کھانے کے وقت اس کو ضرور شریک کرتے بلکہ اگر موجود نہ ہوتا تو اس کے لئے کھانا رکھ لیتے تھے۔اس کا مؤید ایک اور واقعہ میاں غفارا (جس کے یگوں میں اکثر ہمارے احباب آتے جاتے ہیں) ان ایام میں حضرت اقدس کی خدمت میں رہتا تھا۔حضرت کی خدمت میں اُس کے آنے کی تقریب عجیب دلچسپ ہے اور آپ کے رحم اور ہمدردی کے جذبات کے اظہار کا ایک نقشہ پیش کرتی ہے۔میاں غفارا کہتا ہے کہ میری عمر ۱۳-۱۴ سال کی تھی۔میں بڑی مسجد کے صحن پر لیٹا ہوا دانے چبا رہا تھا۔اور جس طرح پر بکری کھاتی ہے اس طرح پر منہ سے کھا رہا تھا۔حضرت اقدس وہاں آئے اور مجھے اس حالت میں دیکھ کر آپ نے مجھے میرا پتہ ونشان پوچھا اور پھر اپنے ساتھ مکان پر لے گئے۔اور دو خمیری روٹیاں لا کر مجھے دیں۔میں کھا کر چلا آیا۔اور اسی طرح پر مجھے ہر روز کھانا مل جاتا تو میں کبھی وہاں کھا کر اور کبھی گھر کو لے کر چلا آتا۔کوئی کام اور خدمت میرے سپرد نہ تھی۔پھر رفتہ رفتہ جب میں مانوس ہو گیا۔تو آپ نے مجھ کو اور چند اور لڑکوں کو نماز کی ہدایت کی۔اور آپ ہی کچھ سورتیں یاد کرائیں۔اور ہم سب بڑے پکے نمازی ہو گئے۔واقعات کا سلسلہ جو آگے چلتا ہے وہ میں بعد میں لکھوں گا۔یہ واقعہ جو اس کی ابتدائی ملاقات اور تقریب کا میں نے لکھا ہے اس میں ایک خاص امر ہے جو قارئین کرام کی توجہ چاہتا ہے۔آپ ایک بچے کو دیکھتے ہیں کہ جو کے دانے جانوروں کی طرح کھا رہا ہے آپ اس کی اس حالت سے اس نکتہ پر پہنچتے ہیں کہ وہ بھوکا ہے اور پھر دیکھتے ہیں کہ ایک مسلمان بچہ دین سے غافل اور بے خبر رہا جاتا ہے۔اسے مسجد سے لے آتے ہیں اور کھانا کھلاتے ہیں۔اور مستقل طور پر اس کے کھانے کا انتظام کرتے اور اس کی دینی تربیت فرماتے اور اسے پورا پابند نماز بنا دیتے ہیں۔یہ ہمدردی اور رحم اپنی آپ نظیر ہے۔