حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل)

by Other Authors

Page 20 of 470

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 20

حیات احمد جلد اول حصہ اوّل پھر اسی ازالہ اوہام کے صفحہ 119 کے حاشیہ میں اپنے دعوی کے متعلق تائیدی دلائل پیش کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ” دوسری اور تیسری علامت یعنی یہ کہ بخاری یا سمر قندی الاصل ہونا اور زمیندار اور زمینداری کے ممیز خاندان میں سے ہونا یہ دونوں علامتیں صریح اور بین طور پر اس عاجز میں ثابت ہیں۔66 (ازالہ اوہام روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۱۵۹ حاشیه ) اسی ضمن میں حارث کی پیشگوئی پر کلام کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔اور حارث کے نام پر جو پیشگوئی ہے اس کی علامات خاصہ پانچ بیان کی گئی ہیں۔پہلی یہ کہ وہ نہ سیف کے ساتھ نہ سنان کے ساتھ بلکہ اپنی قوتِ ایمان کے ساتھ اور اپنے نور عرفان اور برکات بیان کے ساتھ حق کے طالبوں اور سچائی کے بھوکوں پیاسوں کو تقویت دے گا اور اپنی مخلصانہ شجاعت اور مومنانہ شہادتوں کی وجہ سے ان کے قدم کو استوار کر دے گا۔اسی کے موافق جو مومنین قریش نے مکہ معظمہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت کو قبول کر کے اور اپنے سارے زور اور سارے اخلاص اور کامل ایمانی کے آثار دکھلانے سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بازوئے دعوت کو قوت دے دی تھی اور اسلام کے پیروں کو مکہ معظمہ میں جما دیا تھا۔دوسری علامت یہ کہ وہ حارث ماوراء النہر میں سے ہوگا۔جس سے مطلب یہ ہے که سمرقندی یا بخاری الاصل ہو گا۔تیسری علامت یہ ہے کہ وہ زمینداری کے ممیز خاندان میں سے اور کھیتی کرنے والا ہو گا۔چوتھی علامت یہ ہے کہ وہ ایسے وقت میں ظاہر ہو گا کہ جس وقت میں آل محمد یعنی اتقیاء مسلمین جو سادات قوم و شرفاء ملت میں کسی حامی دین اور مبار زمیدان کے محتاج ہوں گے۔آل محمد کے لفظ میں ایک افضل اور طیب جزوکو ذکر کر کے کل افراد جو پاکیزگی اور طہارت میں اس جزو سے مناسبت رکھتے ہیں اُسی کے اندر داخل کئے گئے ہیں۔جیسا کہ یہ عام طریقہ متکلمین ہے کہ بعض اوقات ایک جز و کوذ کر کر کے کل اس سے مرا دلیا جاتا ہے۔