حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل)

by Other Authors

Page 21 of 470

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 21

حیات احمد ۲۱ جلد اوّل حصہ اول پانچویں علامت اس حارث کی یہ ہے کہ امیروں اور بادشاہوں اور با جمعیت لوگوں کی صورت پر ظاہر نہیں ہوگا بلکہ اس اعلیٰ درجہ کے کام کی انجام دہی کے لئے اپنی قوم کی امداد کا محتاج ہو گا۔اب اول ہم ابو داؤد کی حدیث کو اس کے اصل الفاظ میں بیان کر کے پھر جس قدر مناسب اور کافی ہو، اپنی نسبت اس کا ثبوت پیش کریں گے۔سو واضح ہو کہ حدیث یہ ہے۔عَنْ عَلِيٌّ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ الله صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْرُجُ رَجُلٌ مِن وَرَاءِ النَّهْرِ يُقَالُ لَهُ الْحَارِثُ حَرَّاتٌ عَلَى مُقَدَّمَتِهِ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ مَنْصُوْرٌ يُوَطِّيءُ أَوْ يُمَكِّنُ لِآلِ مُحَمَّدٍ كَمَا مَكَّنَتْ قُرَيْسٌ لِرَسُوْلِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَبَ عَلى كُلِّ مُؤْمِنٍ نَصْرُهُ أَوْ قَالَ إِجَابَتُهُ یعنی روایت ہے علی کرم اللہ وجھہ سے کہ کہا فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ ایک شخص پیچھے نہر کے سے نکلے گا۔یعنی بخارا یا سمر قند اس کا اصل وطن ہو گا اور وہ حارث کے نام سے پکارا جاوے گا۔یعنی باعتبار اپنے آباء و اجداد کے پیشہ کے افواہ عام میں یا اس گورنمنٹ کے نظر میں حارث یعنی ایک زمیندار کہلائے گا۔پھر آگے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ کیوں حارث کہلائے گا۔اس وجہ سے کہ وہ حراث ہوگا۔یعنی ممیز زمینداروں میں سے ہوگا اور کھیتی کرنے والوں میں سے ایک معزز خاندان کا آدمی شمار کیا جاوے گا۔پھر اس کے بعد فرمایا کہ اس کے لشکر یعنی اس کی جماعت کا سردار وسرگروہ ایک توفیق یافتہ شخص ہو گا۔جس کو آسمان پر منصور کے نام سے پکارا جاوے گا۔کیونکہ خدا تعالیٰ اس کے خادمانہ ارادوں کا جو اس کے دل میں ہوں گے آپ ناصر ہو گا۔اس جگہ اگر چہ اس منصور کو سپہ سالار کے طور پر بیان کیا ہے مگر اس مقام میں در حقیقت کوئی ظاہری جنگ و جدل مراد نہیں ہے بلکہ یہ ایک روحانی فوج ہو گی کہ اس حارث کو دی جائے گی جیسا کہ کشفی حالت میں اس عاجز نے دیکھا کہ انسان کی صورت پر دو شخص ایک مکان میں بیٹھے سنن ابی داؤد۔کتاب المهدی