حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 282
حیات احمد ۲۸۲ جلد اول حصہ دوم منکر و مخالف (عیسائی، آرید، برہمو وغیرہ ) اکثر انگریزی خواں ہیں۔ان کا افہام یا انجام (ساکت کرنا ) جیسا کہ الہامات انگریزی سے ممکن ہے عربی یا فارسی وغیرہ الہامات سے ممکن نہیں۔عربی وغیرہ مشرقی زبانوں کے الہامات کو ( وہ ان کے مضامین سے آنکھیں بند کر کر ) یقیناً مؤلف کا ایجاد طبع تے۔اب ( جبکہ وہ انگریزی الہامات پڑھتے اور مؤلف کا انگریزی زبان سے محض اُمی و اجنبی ہونا سنتے ہیں ) وہ ان الہامات مؤلف کو تعجب کی نگاہوں سے دیکھتے ہیں۔اور بے اختیار ان کو خرق عادت و برخلاف عام قانون قدرت جن کو وہ غلطی سے قدرت خداوندی کا پیمانہ سمجھ رہے تھے ماننے لگے ہیں۔ماہ صیام میں جبکہ میں شملہ پر تھا۔ایک بابو صاحب برمجھ سماج کے لیکچرار و پریسٹ (جو میرے ہمسایہ تھے ) مجھے قانونِ قدرت (جس کو لوگوں نے قانون سمجھ رکھا ہے اور درحقیقت وہ خدا تعالیٰ کی قدرت کا قانون نہیں ہے) کے تغیر و تبدل میں ہمکلام ہوئے۔جب میں نے ثابت کر دیا اور ان سے تسلیم کرالیا تو خدا کی قدرت انہی حالات و واقعات میں ( جو ہم دیکھ رہے ہیں) محصور ومحدود نہیں ہے۔بلکہ وہ اس سے فوق الفوق اور وراء الوراء وسعت رکھتی ہے۔اور ممکن ہے کہ خدا تعالیٰ ان اسباب و موجودات سے وہ کام لے جو اس وقت تک ان سے نہیں لئے گئے یا ہم نے نہیں دیکھے۔تو وہ صاحب بولے کہ یہ امرممکن تو ہے اور بنظر قدرت وسیع و غیر محدود خداوندی۔ہم اس امکان کو مانتے ہیں پر ہم اس کی فعلیت ( وقوع) کو کیونکر مان لیں۔جب تک اس کا مشاہدہ نہ کر لیں۔اس پر میں نے مؤلف براہین احمدیہ کے الہامات انگریزی زبان کو پیش کیا۔اور یہ کہا کہ ایک شخص کا انگریزی زبان سے اُمی و اجنبی محض ہو کر (جس کو ہم روز مرہ کے مشاہدے اور تجربے سے بخوبی جانتے ہیں اور دوسرے کو ثابت و معلوم کرا سکتے ہیں) بلا تعلیم و تعلم اس زبان میں ایسی باتیں بیان کرنا (جن کا بیان انسانی طاقت سے خارج ہو )۔تمہارے تجویزی قانون قدرت کے مخالف نہیں تو کیا ہے؟ یہ سن کر بابو صاحب موصوف نے سکوت کیا۔اور یہ فرمایا کہ ایسے شخص کو میں بھی دیکھنا چاہتا ہوں۔پھر میں نے یہ بھی سنا کہ انہوں نے ایک خط بھی متضمن اظہار اشتیاق ملاقات مؤلف براہین احمدیہ کے لکھا۔اور مجھے یہ بھی امید ہے کہ اگر وہ اپنے ارادے و وعدے کو پورا کریں گے اور مؤلف کے زاد بوم کے