حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل)

by Other Authors

Page 283 of 470

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 283

حیات احمد ۲۸۳ جلد اول حصہ دوم ساکنین ہندو مسلمانوں کی متواتر شہادت سے ان کا انگریزی زبان سے محض نا واقف ہونا ثابت کر لیں گے تو وہ اس امر کا خرق عادت اور کرامت ہونا مان لیں گے۔اور وہ جب الہامات یا مؤلف کی کسی اور پیشین گوئی کا خود تجربہ اور مشاہدہ کر لیں گے تو قبول اسلام سے دریغ نہ کریں گے۔ایسا ہی مجھے اور انگریزی خواناں اہلِ انصاف سے توقع ہے کہ اگر وہ بچشم انصاف انگریزی الہامات مؤلف کو پڑھیں یا بگوش انصاف سنیں اور ساتھ ہی اس کے ان کو یہ بھی تصدیق ہو کہ مؤلف انگریزی کا ایک حرف نہیں جانتا تو وہ اس امر کا کرامت ہونا مان لیں گے۔یہ لوگ جو اپنے تجویزی قانون کو قانونِ قدرت خداوندی سمجھتے ہیں۔اور اس کے خلاف کو محال جانتے ہیں تو اس کی وجہ یہی ہے کہ آج کل ان کو اس قانون کے مخالف کچھ دکھانے والا کوئی نظر نہیں آیا۔اور پچھلے خوارق انبیاء و اولیاء پر ( جو بواسطہ فقل ان کو پہنچے ) ان کو راستی کا گمان نہیں ہے اور جوان میں (جیسے حضرات نیچر یہ جو مسلمان برہمو یا فلسفی مسلمان کہلانے کے مستحق نہیں ) اس نقل کو راست جانتے ہیں وہ اس میں تاویل و تصرف کر کے ان طرق کو امور عادیہ بنا لیتے ہیں۔ان لوگوں کو بھی کوئی کرامات دکھانے والا نظر آوے تو امید ہے کہ ان کا انکار بھی مبدل بہ اقبال ہو جائے۔اسی امید پر ہم مؤلف براہین احمدیہ کو یہ صلاح دیتے ہیں کہ جیسے آپ نے پادریوں اور برمجھ سماج و آریہ سماج کے سرکردہ داعیان کے نام خطوط متضمن وعدہ مشاہدہ خوارق تحریر کئے ہیں۔ویسے ہی سرگروہ فرقہ نیچریہ کے نام بھی ایک خط تحریر فرماویں۔اس کے جواب میں اگر وہ یہ کہیں کہ ہم تو اسلام کو قرآن کو مانتے ہیں۔خدا کو خدا اور رسول کو رسول جانتے ہیں۔ہم کو خوارق و کرامات کی (جن کے مشاہدے سے صرف تصدیق نبوت مقصود ہوتی ہے ) کیا ضرورت ہے۔تو اس کا جواب ان کو یہ دیں کہ آپ لوگ گو ذات یا لفظ خدا کو مانتے ہیں مگر اس کی صفات پر پورا ایمان نہیں رکھتے۔اس کا قادر مطلق ہونا تسلیم نہیں کرتے۔اس بات پر کہ وہ آگ سے پانی کا اور پانی سے آگ کا کام لے قادر نہیں سمجھتے۔بلکہ اس امر کو اس کی قدرت میں بٹہ لگانے والا خیال کرتے ہیں اُس خدا کو ایسا ماننا نہ ماننے کے برابر ہے۔اس لئے آپ لوگوں کو بھی اس امر کی سخت حاجت ہے کہ کرامات و خوارق عادت کا بچشم خود ملاحظہ کریں اور