حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 224
حیات احمد ۲۲۴ جلد اول حصہ دوم مگر دراصل وہ ایک غنڈہ اور بدمعاش انسان تھا۔اس کے ارد گرد بھی ایسے لوگوں کا جمگھٹا ہونے لگا جو آوارہ مزاج تھے۔بھائی کشن سنگھ جو حضرت اقدس کی تصانیف میں کیسوں والا آریہ کے نام سے ذکر کیا گیا ہے حضرت مسیح موعود کے پاس طب پڑھنے جایا کرتا تھا۔اس نے جا کر کہا کہ بڑے مرزا صاحب فوت ہو گئے اور مرزا غلام قادر صاحب نو کر آپ سے کچھ امید نہیں کیا کریں۔اس پر فرمایا۔بات کیا ہے؟ تب انہوں نے اصل ماجرا اور کیفیت سنائی جب حضرت کو معلوم ہوا کہ شہر میں ایک بدمعاش لوگوں کی بہو بیٹیوں کی آبروریزی کا موجب ہو رہا ہے اور فسق و فجور بڑھ رہا ہے آپ کو جوش آ گیا اور فوراً چوکیدار کو بھیج کر اسے حکم دیا کہ یہاں سے چلے جاؤ ورنہ چالان کرا دوں گا۔اس حکم اور ان الفاظ میں کچھ ایسی ہیبت اور رعب تھا کہ نہ تو اس بدمعاش کو اور نہ اس کے طرفداروں میں سے کسی کو حوصلہ ہوا کہ اسے ایک دن کے لئے بھی اور رکھ سکیں باوجود یکہ بارشوں کی وجہ سے شہر کے گرد پانی تھا مگر اسے اپنے بوریا بستر اور موگریاں وغیرہ اٹھوا کر بھاگتے ہی بنی اور اس طرح پر حضرت مسیح موعود نے شہر سے فسق و فجور کے ایک اڈا کو اٹھا دیا اور لوگوں کی آبرو بچالی۔آپ بالطبع اور فطرتا اس قسم کی باتوں کو چونکہ سخت نفرت اور کراہت کی نظر سے دیکھتے تھے اس لئے ہر چند آپ کی عادت میں نہ تھا کہ وہ لوگوں کے معاملات میں دخیل ہوں مگر جب دیکھا کہ یہ ایک حیا سوز معاملہ ہے اور اس سے شہر کی اخلاقی حالت بگڑ کر عذاب الہی کا موجب ہوسکتی ہے اس وقت آپ نے مداخلت کرنے میں ذرا بھی تو قف اور تامل کرنا پسند نہیں فرمایا۔قولنج زحیری اور اعجازی شفا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صحت شروع ہی سے کچھ اچھی نہ تھی اور یہ ایک قدرتی بات تھی کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جو پیشگوئی مسیح موعود کے نزول کی بابت فرمائی ہے اس میں اس کا دو زرد چادروں میں آنا بیان کیا گیا ہے اور زرد چادروں سے مراد دو بیماریاں ہیں جو حضرت مسیح موعود کو شروع سے لاحق تھیں۔ایک دوران سر کی بیماری تھی اور ایک کثرت پیشاب کی۔دورانِ سر کی بیماری