حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل)

by Other Authors

Page 225 of 470

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 225

حیات احمد ۲۲۵ جلد اول حصہ دوم آپ کو بہت پرانی تھی۔بر داطراف ہو کر سخت تکلیف ہوتی اور اسی وجہ سے آپ عموما گرم لباس رکھتے تھے خیر یہ ذکر اور بحث تو انشاء اللہ دوسرے مقام پر ہوگی یہاں اس کی طرف صرف اشارہ کرنے کے بعد مجھ کو ایک واقعہ کا اظہار مقصود ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اپنی بعثت سے پہلے ایک مرتبہ قولنج زحیری ہوا اور اس عارضہ سے آپ ایسے بیمار ہوئے کہ کوئی امید جانبر ہونے کی باقی نہ تھی۔انہیں دنوں میں مولوی ابوسعید محمد حسین صاحب کے والد شیخ رحیم بخش صاحب بٹالہ سے آپ کی عیادت کے لئے آئے اور انہوں نے آپ کی نازک حالت دیکھ کر یہ بھی کہا کہ آج کل یہ مرض وبا کی طرح پھیلی ہوئی ہے بٹالہ میں ابھی میں ایک جنازہ پڑھ کر آیا ہوں جو اسی مرض سے فوت ہوا۔یہاں قادیان میں بھی میاں محمد بخش حجام جو میاں فضل دین احمدی کا باپ تھا اسی مرض سے بیمار ہو کر آٹھویں دن فوت ہو گیا۔اس بیماری میں اللہ تعالیٰ نے نہ صرف خارق عادت طور پر آپ کو اعجازی شفا دی بلکہ آپ ہی اس کی دوا بتائی اور دعا بھی تعلیم کی۔چنانچہ سُبْحَانَ اللهِ وَبِحَمْدِهِ سُبْحَانَ اللَّهِ الْعَظِيْمِ اللَّهُمَّ صَلَّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَّ عَلَى آلِ مُحَمَّدٍ۔یعنی اللہ تعالیٰ پاک ہے اور اپنے محامد کے ساتھ ہے اللہ تعالیٰ پاک اور برتر ہے۔اے اللہ محمد اور محمد کی آل پر صلوۃ ہو۔یہ دعا الہاما اسی وقت سکھائی گئی تھی حضرت نے خود اس علالت اور اعجازی علاج اور شفا کا ذکر اس طرح پر فرمایا ہے:- ایک مرتبہ میں سخت بیمار ہوا۔یہاں تک کہ تین مختلف وقتوں میں میرے وارثوں نے میرا آخری وقت سمجھ کر مسنون طریقہ پر مجھے تین مرتبہ سورہ بین سنائی۔جب تیسری مرتبہ سورہ بین سنائی گئی تو میں دیکھتا تھا کہ بعض عزیز میرے جو اب وہ دنیا میں سے گزر بھی گئے دیواروں کے پیچھے بے اختیار روتے تھے۔اور مجھے ایک قسم کا سخت قولنج تھا اور بار بار دمبدم حاجت ہو کر خون آتا تھا۔سولہ دن برابر ایسی حالت رہی اور اس بیماری میں میرے ساتھ ایک اور شخص بیمار ہوا تھا وہ آٹھویں دن راہی ملک بقا ہو گیا حالانکہ اس کی مرض کی شدت ایسی نہ تھی جیسی میری۔جب بیماری کو