حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل)

by Other Authors

Page 223 of 470

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 223

حیات احمد ۲۲۳ جلد اول حصہ دوم میراں بخش گھوڑا پکڑے ہوئے چلا راستہ میں اس کو کہہ دیا کہ تم سوار ہو جاؤ۔چنانچہ میراں بخش نے سواری کا لطف اٹھایا اور حضرت مسیح موعود اس کے ساتھ ساتھ پیدل چلے گئے۔جب موقعہ پر پہنچے تو فریقین نے ہر طرح آپ کی مدارت کی کوشش کی۔اس لئے نہیں کہ آپ ان کے مقدمہ میں کمیشن تھے بلکہ اس لحاظ سے کہ آپ قادیان کے مشہور و معروف سردار اور رئیس کے بیٹے تھے مگر حضرت مرزا صاحب نے کہا کہ میں کھانے کے واسطے روٹی ساتھ لایا ہوں اور میرے گھوڑے کے لئے دانہ بھی موجود ہے مجھے صحیح صحیح واقعات مقدمہ کے بتادو اور کچھ ضرورت نہیں۔میراں بخش کہتا تھا کہ میں نے اس عورت کو جس کی لڑکی کے ناطہ کا مقدمہ تھا الگ جا کر کہہ دیا کہ اس نے تو کسی کے گھر کا پانی بھی نہیں پینا گھوڑے کے لئے دانہ اور اپنی روٹی بھی گھر سے ساتھ لایا ہے۔مجھ کو تم ایک روپیہ دے دو۔وہ یہ بھی کہتا تھا کہ حضرت صاحب نے راستہ میں ہی مجھ کو منع کر دیا تھا کہ وہاں کسی سے کچھ مت لینا مگر میں نے چپکے سے ایک روپیہ لے لیا۔یہ واقعہ بظاہر نہایت معمولی واقعہ ہو سکتا ہے مگر حضرت مسیح موعود کی دیانت اور امانت کے لئے ایک زبر دست گواہ ہے اور دوسروں کے آرام کو اپنے آرام پر مقدم کر لینے کی روح ان میں کام کرتی تھی ایک شخص جو بطور ملا زم ساتھ ہے اپنے گھوڑے پر سوار کرالینا اور آپ ساتھ پیدل چلنا ہر نفس کا کام نہیں عظمندوں کے لئے اس ایک واقعہ میں بہت سی کام کی با تیں مل سکتی ہیں۔ایک بدمعاش سادھو کو نکلوا دیا ایک طرف آپ کی طبیعت میں دنیا کے بکھیڑوں اور جھگڑوں سے نفرت تھی مگر دوسری طرف دوسروں کی ہمدردی ان کی عزت و آبرو کی حفاظت کے لئے اگر آپ کو مداخلت کرنے کی ضرورت پیش آتی تو مضائقہ نہ فرماتے۔۱۸۷۷ء میں قادیان میں ایک بدمعاش سادھو کہیں سے آ گیا۔اس کے پاس بڑی بڑی وزنی موگریاں تھیں اور وہ ان کے ذریعہ ورزش کرتا تھا۔عوام اہل ہنود جو اپنی خوش اعتقادی یا صاف الفاظ میں ضعیف الاعتقادی میں مشہور ہیں اس کے متعلق خیال کرتے کہ : ان کی کچھ ہنومان کی کچھ ہے۔کچھ جانگیہ ہوتا ہے۔گویا اسے بڑا پہلوان اور شہر ورسمجھا جاتا تھا